تلنگانہ کےملازمین سرکار کو حکومت دے سکتی ہے جلد ہی خوشخبری

PRC FOR TS EMPLOYEES

تنخواہوں پر نظر ثانی کے لیے IR کے اعلان کے علاوہ نئے PRC کمیشن کی تقرری کا امکان

حیدر آباد : 22 ؍ جولائی (اپنا وطن نیوز بیورو )
تلنگانہ حکومت ملازمین سرکار کو بہت جلد خوشخبری سناسکتی ہے۔
میڈیا اطلاعات کے مطابق ریاست تلنگانہ میں مختلف محکمہ جات کے تحت خدمات پر معمور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر نظر ثانی کے لیے حکومت بہت جلد پے رویزن کمیشن ( پی آر سی) کی تقرری عمل میں لاسکتی ہے۔
ریاست میں عنقریب منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر قوی امکان ہے کہ حکومت اس مہینے کے آخر تک پے رویزن کمیشن کی تشکیل کا اعلان کرسکتی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حکومت نے ریٹائرڈ آئی اے ایس آفیسر کی قیادت میں پے ریویژن کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ممکن ہے کہ حکومت صرف ملازمین کی تنخواہوں پر نظر ثانی کے لئے کمیشن کے قیام تک ہی محدود نہ رہتے ہوئے ملازمین کو IR یعنی انٹرم ریلیف کا اعلان کرے تاکہ کمیشن کی رپورٹ کی وصولی سے قبل ہی ملازمین کی تنخواہوں میں ایک حد تک اضافہ کردیا جائے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ملازمین سرکار کی تنخواہوں میں نظرثانی کا یہ دوسرا کمیشن ہوگا۔ موجودہ پے ریویژن کمیشن (پی آر سی) کی میعاد 30 جون کو ختم ہوچکی ہے۔اسی تناظر میں معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ جلد ہی ملازمین سرکار کی مختلف یونینوں کے قائدین کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کریں گے۔ جس میں کمیشن کے قیام کا اعلان اور IR کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔
سال 2018 میں 27 فیصد IR
ملازمین سرکار کے لئے سال 2009 میں حکومت نے 11 فیصد ، 2014 میں 15 فیصد اور 2018 میں 27 فیصد آئی آر کا اعلان کیا تھا۔ تاہم ملازمین سرکار اس بار کم از کم 30 فیصد سے زائد آئی آر کے اعلان کا حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ مختلف یونین قائدین نے ملازمین کے کئی مطالبات پر حکومت سے نمائندگی کا فیصلہ کیا ہے۔ جن میں IR کے ساتھ EHS اسکیم کا موثر طریقہ سے نفاذ، ملازمین کو جگہوں کا الاٹمنٹ اور CPS کا خاتمہ کرتے ہوئے قدیم پنشن اسکیم کا نفاذ شامل ہے۔
CPS کو ختم کرتے ہوئے OPS کا نفاذ
20 سال پہلے نافذ ہونے والی اس CPS اسکیم کے تحٹ ہر ملازم سرکار 10 فیصد حصہ اور حکومت 10 فیصد حصہ شیئر مارکیٹ میں لگاتی ہے۔ 20 سال سے ملازمین کو پریشانی کا سامنا ہے کیونکہ مرکز نے ملازمین کی تنخواہ سے کاٹی گئی رقم واپس نہیں کی ہے۔
اسی لئے ملازمین کا مطالبہ ہے کہ سی پی ایس اسکیم کو منسوخ کرکے قدیم پنشن اسکیم کو بحال کیا جائے۔ پہلے ہی 5 ریاستوں میں متعلقہ حکومتوں نے CPS کو منسوخ کر کے قدیم پنشن اسکیم کو بحال کر دیا ہے۔
ریاست تلنگانہ میں برسراقتدار بی آر ایس پارٹی ملک بھر میں منعقد شدنی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرچکی ہے لہذا ملازمین کو امید ہے کہ موجودہ حکومت تلنگانہ میں قدیم پنشن اسکیم کو بحال کرتے ہوئے دوسری ریاستوں میں اس کی نظیر پیش کرے گی۔
ٹی این جی اوز صدر نے حکومت کو ملازمین کے  چار مطالبات پیش کئے
 ریاستی صدر ٹی این جی اوز مسٹر ایم۔راجندر نے امید ظاہر کی کہ جس طرح ماضی میں وزیر اعلیٰ کے سی آر نے ملازمین سرکار کے مختلف مسائل کے حل کے لئے اقدامات کئے تھے، اسی طرز پر تاحال زیر التوا مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ دو دن قبل ریاستی وزراء ہریش راؤ اور کے ٹی آر سے ملاقات کے بعد ان سے کی گئی نمائندگیوں کا مثبت عمل دیکھا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ 33 محکمہ جات میں 1600 افراد کی ہمدردانہ تقرریوں کے بارے میں کے ٹی آر سے کی گئی درخواست پر اس کا فوری ردعمل ظاہر ہوا اور حکومت نے آفس سب آرڈنیٹ کی خدمات پر معمور 1600 ملازمین کو بحیثیت جونئیر اسسٹنٹ ترقی دینے کے احکامات جاری کئے۔
اس طرح خالی ہونے والی ان 1600 آفس سب آرڈنیٹ کی جائیدادوں پر مختلف محکمہ جات کے متوفی ملازمین سرکار کے اہل وارثین کو ملازمتیں فراہم کی جاسکیں گی۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں امید ہے کہ سی ایم کے سی آر یونین قائدین  کے ساتھ بہت جلد جائزہ اجلاس منعقد کریں گے اور ان کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کر نے کے فیصلے کریں گے۔
اسی کے تحت ہم نے تمام ملازمین کے ساتھ مل کر چار مطالبات حکومت کی توجہ میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
خاص طور پر، ہم نے حکومت سے IR کا اعلان کرنے،نئے PRC کمیشن کی تقرری، ملازمین کے لئے EHS اسکیم پر موثر طریقہ سے عمل آوری، CPS کی منسوخی اور پرانی پنشن کو بحال کرنے جیسے مطالبات پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ملازمین سرکار کی حکومت سے ناراضگی
ریاست میں عنقریب انتخابات کے پیش نظر ملازمین سرکار حکومت سے اپنے دیرینہ مسائل کو حل کروانے کے لئے کمرکستے دکھائی دے رہے ہیں۔ ریاست کے بیشتر ملازمین حکومت کی پالیسیوں سے ان دنوں سخت ناراض ہیں۔
ملازمین سرکار کو وقت پر تنخواہوں کی عدم ادائیگی اس کی سب سے اہم وجہ ہے۔
اس کے علاوہ ملازمین سرکار کو ہر چھ ماہ میں منظور کئے جانے والے مہنگائی بھتہ کی وقت پر عدم منظوری، اور بعد ازاں منظور شدہ مہنگائی بھتہ کی طویل اقساط میں ادائیگی ملازمین سرکار کی ناراضگی کی اہم وجہ بن چکی ہے۔
سال 2003 کے بعد مختلف محکمہ جات میں تقرر پائے گئے سرکاری ملازمین کا سب سے بڑا ڈیمانڈ قدیم پنشن اسکیم کو بحال کرنا ہے۔ وہ موجودہ انھیں حاصل CPS اسکیم سے سخت ناراض ہیں۔
اس کے علاوہ بھی دیگر کئی ایک مسائل ہیں جن کی یکسوئی کے لئے ملازمین سرکار ریاست میں انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ سے  قبل اپنے جائز مطالبات کو حل کروانے کی کوشش کررہے ہیں۔