نرمل ضلع کے کڑم پراجیکٹ کو شدید خطرہ

کڑم پراجیکٹ کے 4 دروازے خراب ۔ پانی ڈیم کے اوپر سے بہنے لگا

نرمل : 27 ؍ جولائی (اپنا وطن نیوز)

گذشتہ چند دنوں سے جاری طوفانی بارش کی وجہ سے ضلع نرمل کے کڑم آبپاشی پراجیکٹ ( ڈیم ) کو شدید خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔

پانی کا بہاؤ اتنا تیز ہے کہ ڈیم کا پانی دروازوں کے اوپر سے بہہ رہا ہے۔ کڑم پراجیکٹ کی اوسط بلندی 293 میٹر (964 فٹ) ہے۔ اس وقت ڈیم میں 960 فیٹ پانی بھر چکا ہے۔

کڑم پراجیکٹ میں انفلو (پانی کی آمد کی گنجائش) 3.50 لاکھ کیوسک ہے، تاہم اس وقت 6.04 لاکھ کیوسک  سیلابی پانی داخل ہورہاہے۔ جبکہ آؤٹ فلو (پانی کا اخراج) صرف 2.47  لاکھ کیوسک ہورہا ہے۔ 

اس پراجیکٹ کے جملہ 18 دروازوں میں سے 14 دروازے کھول دئیے گئے ہیں تاہم مزید 4 دروازے نہ کھلنے کی وجہ سے پانی کا اخراج کم ہورہا ہے۔ عہدیداران کے مطابق تکنیکی وجہ سے اس پراجیکٹ کے مزید چار دروازے نہیں کھل پائے جس کے باعث سیلابی پانی ڈیم کے دروازوں کے اوپر سے بہہ رہا ہے۔



ڈیم کو لاحق خطرہ کے پیش نظر نشیبی علاقوں کے 12 مواضعات کی عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔ عوام کو سرکاری دواخانوں اور اسکولوں میں عارضی رہائش کے انتظامات کئے گئے ہیں۔

ریاستی وزیر جنگلات و ماحولیات مسٹر اندرا کرن ریڈی، رکن اسمبلی خانہ پور ریکھا شیام نائک و دیگر ضلعی عہدیداران نے پراجیکٹ کے مقام کا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا۔

عہدیداران مزید مواضعات کی عوام کو چوکس کرنے اور انھیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ریاستی وزیر اندرا کرن ریڈی نے ڈیم کے دورہ کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی حتی المقدور کوشش کررہی ہے، عوام کو بہتر بنیادی سہولیات کی فراہمی عمل میں لائی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ڈیم کے ذمہ داران کی جانب سے کل سے ہی ڈیم کے دروازوں کو کھولنے کی کوشش کی جارہی تھی تاہم دروازے کھل نہیں پائے۔ انھوں نے بتایا کہ ریاستی سطح کے انجنئیرس سے اس بابت مدد لی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ ڈیم کا پانی خطرہ کے نشان کے اوپر سے بہہ رہا ہے تاہم سیلابی پانی میں آہستہ آہستہ کمی ہونے کی امید ہے۔

قبل ازیں رکن اسمبلی خانہ پور ریکھا شیام نائک جو کہ ڈیم کے دروازوں تک جاکر حالات کا جائزہ لے رہی تھیں ایک موقع پر ڈیم کے اوپر سے بہتے ہوئے شدید پانی کو دیکھ کر وہ بھی خوفزدہ دکھائی دیں اور ڈیم کے دروازوں سے وہ محفوظ مقام پر جا کھڑی ہوئی۔