محکمہ اقلیتی بہبود کے لئے فوری بجٹ جاری کرنے اکبر الدین اویسی کا مطالبہ

بجٹ کی عدم اجرائی پر نتائج کیا ہوں گے حکومت بہتر جانتی ہے

حیدر آباد : 5 ؍ اگست (اپنا وطن نیوز)

قائد مقننہ مجلس اکبر الدین اویسی نے تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فی الفور محکمہ اقلیتی بہبود کے لئے بجٹ کی اجرائی کو ممکن بنائیں تاکہ اقلیتوں سے متعلق اسکیمات پر عمل آوری ممکن ہوسکے۔

انھوں نے آج اسمبلی سیشن کے دوران مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ جسطرح حکومت دلت بندھو، بی سی بندھو کے ذریعہ مختلف طبقات کے عوام کی فلاح و بہبود پر رقم خرچ کررہی ہے اسی طرح حکومت کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں کی فلاح و بہبودی کے لئے بھی رقم خرچ کرے۔

انھوں نے کہا کہ کم از کم انتخابات کے اس وقت میں اقلیتوں کے لئے بجٹ کی اجرائی عمل میں لائی جائے۔

اپنی تقریر کے دوران ایک موقع پر اکبر الدین اویسی نے حکومت کو متنبہ کیا کہ ’’اگر اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے رقم جاری نہیں کی جاتی ہے تب اس کے کیا نتائج ہوں گے حکومت بہتر جانتی ہے۔‘‘

اکبر الدین اویسی نے وزیر فینانس سے مطالبہ کیا کہ وہ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداران کے ہمراہ اجلاس طلب کریں اور بجٹ کی اجرائی میں رکاوٹوں کا جائزہ لیں۔

قبل ازیں انھوں نے بتایا کہ  آئمہ و موذنین کو حکومت کی جانب سے دیا جانے والا اعزازیہ ماہ مارچ سے جاری نہیں کیا گیا ہے اسی طرح 10 ہزار نئی درخواستوں میں سے تاحال 7 ہزار درخواستیں منظوری کے لئے زیر التوا ہیں۔

بیرونی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے والے اقلیتی طبقہ کے طلبا جن کی تعداد 900 کے قریب ہے انھیں اوور سیز اسکالرشپ منظور نہیں کی جارہی ہے۔

سال 2014 سے سبسیڈی لونس کی اسکیم پر عمل آوری نہیں کی جارہی ہے۔ اسی طرح اسکالرشپس، شادی مبارک، آر ٹی ایف، ایم ٹی ایف اسکالرشپ کی رقومات کی ادائیگی بھی باقی ہے۔

انھوں نے سوال کیا کہ اگر حکومت اقلیتوں کو مختص کردہ بجٹ بھی جاری کرنے میں ناکام رہی تو مسلمان کیسے حکومت کے ساتھ آئینگے؟

ان کے اس سوال پر ریاستی وزیر اندراکرن ریڈی نے کہا کہ وہ ان تمام مطالبات کو حکومت کے علم میں لائیں گے۔