میری کامیابی والدین کی دعاؤں کا نتیجہ : زبیر
عادل آباد : 9 ؍ اگست ( محمد عابد علی ؍ اپنا وطن نیوز بیورو)
یہ زندگی کی سچائی ہے کہ یہاں وہی مقدر کاسکندر ہوتاہے جو مصائب ومشکلات کوزندگی کا حصہ تسلیم کرتے ہوئے کامیابی کے فراز تک پہنچنے کی کوشش کرتاہے۔
ایک ایسی ہی کہانی ضلع مستقر عادل آباد کے نوجوان شیخ زبیر احمد کی ہے جس نے سخت محنت و لگن کے اپنی منزل کے حصول کی کوشش کی اور آج وہ محکمہ پولیس میں بحیثیت سب انسپکٹر آف پولیس کے عہدہ پر فائز ہونے والے ہیں ،جہاں پر ان کا انتخاب عمل میں آچکا ہے۔
تفصیلات کے مطابق تلنگانہ اسٹیٹ پولیس کی جانب سے حالیہ دنوں جاری کئے گئے نتائج میں ضلع مستقر عادل آباد کے نوجوان شیخ زبیر احمد کو بحیثیت سب انسپکٹر آف پولیس (سول) منتخب قرار دیا گیا جس کے بعد ان کی خوشیوں کا ٹھکانہ نہیں ہے۔
شیخ زبیر احمد جو کہ مستقر کے محلہ مہالکشمی واڑہ کے رہائشی ہیں، کے والد شیخ جاوید احمد صاحب ایک کار ڈرائیور ہیں۔ انھوں نے اپنی معمولی سی آمدنی کے باوجود بھی اپنے دونوں فرزندان کو ابتدا ہی سے بہترین تعلیمی ماحول فراہم کیا اور ان کی تمام تعلیمی ضرورتوں کو پوارا کیا۔
زبیر احمد نے بتایا کہ ان کی دسویں تک کی تعلیم مستقر کے گورنمنٹ ہائی اسکول ترپلی میں بذریعہ تلگومیڈیم ہوئی بعد ازاں انھوں نے مستقر کے ودیارتھی جونئیر کالج سے انٹر میڈیٹ اور بعد میں نالندہ کالج سے ڈگری کی تعلیم مکمل کی۔
انھوں نے بتایا کہ محکمہ پولیس کی جانب سے سب انسپکٹر آف پولیس کے اعلامیہ کی اجرائی کے بعد سے ہی انھوں نے اس کی تیاری کے لئے حیدر آباد کا رُخ کرلیا اور چنندہ دوستوں کے ساتھ ایک روم میں امتحان کی تیاری مکمل کی۔
انھوں نے انکشاف کیا کہ انھوں نے اس امتحان کی تیاری کے لئے کسی بھی کوچنگ سنٹر میں کوچنگ نہیں لی بلکہ سیلف اسٹڈی کے ذریعہ ہی انھوں نے اس امتحان کو کامیاب کیا۔ تاہم اپنے دوستوں کے ہمراہ گروپ ڈسکشن اور ہفتہ میں دو تا تین مرتبہ ٹیسٹ سیریز کے ذریعہ ماڈل امتحان تحریر کرتے رہے جس کا انھیں بہترین فائدہ ملا۔
انھوں نے بتایا کہ سب انسپکٹر آف پولیس کے اعلامیہ میں باسر زون کے تحت جملہ 33 جائیدادیں تھیں جن میں سے 30 جائیدادیں سول زمرہ کی تھیں۔ ان جائیدادوں کو مختلف زمروں میں تقسیم کرنے کے بعد بی سی ای زمرہ کے تحت صرف ایک جائیداد کی نشاندہی کی گئی تھی جس پر ان کا انتخاب عمل میں آیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ امتحان میں انھیں جملہ 235 نشانات حاصل ہوئے اور اس طرح سب انسپکٹر آف پولیس (سول) کی حیثیت سے ان کا انتخاب عمل میں آیا۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے اپنی اس کامیابی کے لئے اللہ کا شکر بجا لاتے ہوئےاسے اپنے والدین کی دعاؤں کا نتیجہ قرار دیا۔

