حیدر آباد : 23 ؍ جولائی (اپنا وطن نیوز بیورو)
محکمہ اقلیتی بہبود حکومت تلنگانہ نے ریاست کے بیروزگار اقلیتی نوجوانوں کو ایک لاکھ روپئے صد فیصد سبسیڈی امداد فراہم کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں۔
آج اس خصوص میں محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے جی او آر ٹی نمبر 78 جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ ریاستی حکومت نے جس طرح بی سی طبقہ کے نوجوانوں کو ایک لاکھ روپیوں کی امداد فراہم کی تھی، اسی طرز پر اقلیتی نوجوانوں کو بھی امداد فراہم کی جائے گی۔
چیر مین اقلیتی فینانس کارپوریشن امتیاز اسحاق کی جانب سے کی گئی سفارش کو حکومت نے منظوری دی ہے اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کو احکامات دئیے ہیں کہ وہ بغیر کسی شرائط، بغیر کسی بینک کی رضامندی اقلیتی نوجوانوں کو فراہم کئیے جانے والی اس اسکیم کو روبہ عمل لائیں۔
احکامات میں بتایا گیا کہ مالیاتی سال -23۔2022 میں جن امیدواروں نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کے تحت اقلیتی نوجوانوں کو قرضہ جات کی فراہمی اسکیم کے لئے OBMMS پورٹل کے ذریعہ درخواستیں داخل کی تھیں، انہی درخواستوں کو جاریہ مالیاتی سال کے لئے آگے بڑھایا جائے گا اور انہی درخواست گزاروں کے لئے یہ اسکیم کارکرد ہوگی۔
اسی طرح کرسچن طبقہ کے بیروزگار نوجوانوں کے لئے کرسچن فینانس کارپوریشن کے تحت نئی درخواستیں حاصل کی جائیں گی۔
ایک خاندان کے صرف ایک ہی فرد کو ایک لاکھ روپیوں کی امداد فراہم کی جائے گی۔
اہل استفادہ کنندہ کی عمر 21 تا 55 سال کے درمیان ہونی چاہئے۔ جبکہ آمدنی شہری علاقوں میں دولاکھ روپیوں سے کم اور دیہی علاقوں میں دیڑھ لاکھ روپیوں سے کم ہونی چاہئے۔
امیدواروں کا انتخاب ضلعی سطح پر بنائی گئی سلیکشن کمیٹی کرے گی جس کی صدارت متعلقہ ضلع کلکٹر کریں گے۔
واضح ہو کہ چار دن قبل ریاستی وزیر فینانس مسٹر ہریش راؤ نے بی آر ایس کے اقلیتی قائدین کے اجلاس میں اس اسکیم کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ اسی کڑی کے طور پر آج محکمہ اقلیتی بہبود نے جی او جاری کردیا جس کے بعد اس اسکیم کی عمل آوری کے لئے ذمہ دار ریاستی اقلیتی فینانس کارپوریشن مزید احکامات و گائیڈ لائنس جاری کرے گی۔
آیا مسلم بیروزگار نوجوانوں کو تازہ درخواستیں داخل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا یا پھر اقلیتی فینانس کارپوریشن کے پاس پہلے سے ہی موجود درخواست گزاروں کو یہ اسکیم کے فوائد دئیے جائیں گے، اس پر اندرون تین یوم مزید احکامات جاری ہونے کی امید ہے۔



