بی جے پی کے اوم برلا اور کانگریس کے سریش نے لوک سبھا اسپیکر کے لئے پرچہ نامزدگی داخل کیا

نئی دہلی: 25؍ جون (انٹر نیٹ ڈیسک)
اٹھارویں لوک سبھا اسپیکر کے عہدے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اوم برلا اور کانگریس کے کے۔سریش نے پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے۔
انڈیا گروپ نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلے انڈیا گروپ کو لوک سبھا کے ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ دینے کا وعدہ کر کے سب کے تعاون سے حکومت چلانے کی بات کی تھی، لیکن اب وہ ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ بھی اپوزیشن اتحاد کو دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
اس لیے اپوزیشن اتحاد نے لوک سبھا اسپیکر کے لیے اپنا امید وار کھڑا کیا ہے۔
کانگریس صدر ملکار جن کھڑگے نے مسٹر مودی پر الزام لگایا ہے کہ وہ سب سے اتفاق کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن ان کے کام اس کے بالکل بر عکس ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک مستقبل کی طرف دیکھ رہا ہے ، آپ اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے ماضی کو ہی کریدتے رہتے ہیں۔
گزشتہ 10 برسوں میں 140 کروڑ ہندوستانیوں کو آپ نے جس غیر اعلانیہ ایمر جنسی کا احساس دلایا اس نے جمہوریت اور آئین کو گہرادھچکا پہنچایا ہے۔
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا، "نریندر مودی کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ یہ ان کی حکمت عملی ہے لیکن انہیں اسے بدلنا ہی پڑے گا۔ کیونکہ پوراملک جانتا ہے کہ مسٹر مودی کی باتوں کا کوئی مطلب نہیں ہے۔
کل راج ناتھ سنگھ جی نے مللکار جن کھڑگے جی کو فون کیا اور کہا کہ آپ ہمارے اسپیکر امیدوار کی حمایت کریں۔ ہم اسپیکر کی حمایت کے لیے تیار ہیں لیکن پارلیمانی روایت کے مطابق ڈپٹی چیئر مین اپوزیشن سے ہونا چاہیے۔
متحدہ ترقی پسند حکومت میں بھی ایساہی ہوا تھا۔ راج ناتھ سنگھ جی نے کہا کہ وہ دوبارہ فون کریں گے لیکن ابھی تک فون نہیں آیا۔