اولڈ پنشن اسکیم کی بحالی کا مطالبہ۔دہلی کے رام لیلا میدان میں ریلی

دہلی: 01/اکتوبر (ایجنسیز)

اولڈ پینشن اسکیم کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے آج دہلی کے رام لیلا میدان میں ملازمین سرکار کی جانب سے ایک زبردست احتجاجی ریلی کا اہتمام کیا گیا۔ اس ریلی میں ہزاروں ملازمین سرکار نے شرکت کی۔

اس احتجاجی ریالی کو ’پنشن شنکھناڈ مہارالی‘ کا نام دیا گیا تھا اور اس کا اہتمام نیشنل موومنٹ فار اولڈ پنشن اسکیم تنظیم یعنی NMOPS نے کیا تھا۔

NMOPS کے قومی صدر وجے کمار بندھو نے اس ریالی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "اگر حکومت OPS کو لاگو نہیں کرتی ہے، تو وہ ‘ملازمین کے ووٹ کی چوٹ’ کے ذریعے پیغام دینے کی کوشش کریں گے۔

اس ریلی میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ’’انڈیاــ‘‘ کے رہنماؤں کے ساتھ کسان قائد راکیش ٹکیت نے بھی شرکت کی۔

Rakesh Tikait

کانگریس لیڈر اور ہریانہ کے سابق وزیر اعلی بھوپیندر ہڈا نے ریلی میں کہا، "اگر کانگریس ہریانہ میں اقتدار میں آتی ہے، تو وہ پہلے قدم سے ہی سرکاری ملازمین کے لیے پرانی پنشن اسکیم کو نافذ کریں گے۔”

عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ نے کہا کہ پنجاب میں AAP حکومت نے پرانی پنشن اسکیم کو لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسے جلد ہی نافذ کیا جائے گا۔

وجے کمار بندھو نے کہا، "اگر راجستھان، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، پنجاب، ہماچل پردیش جیسی ریاستوں میں پنشن کا پرانا نظام بحال کیا جا سکتا ہے، تو اقتصادی سپر پاور کے طور پر ابھرنے والا ہندوستان اپنے ملازمین کو پنشن کیوں نہیں دے سکتا؟” اگر حکومت نے پرانا پنشن سسٹم بحال نہ کیا تو آنے والے الیکشن میں ’’ووٹ فار او پی ایس‘‘ مہم چلا کر پرانا پنشن سسٹم بحال کریں گے۔

رام لیلا میدان ہزاروں ملازمین سے بھرا ہوا تھا جنہوں نے ٹوپی پہنی ہوئی تھی جس پر او پی ایس بحالی لکھا ہوا تھا۔ اس میں وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ بنارس کی BLW ریلوے فیکٹری کے ملازمین بھی موجود تھے۔

یہاں کام کرنے والے فرنٹ اگینسٹ این پی ایس کے قومی جنرل سکریٹری راجندر پال نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ گزشتہ سال مرکزی حکومت ریلوے فیکٹریوں کی نجکاری کی کوشش کر رہی تھی لیکن ملازمین کی تحریک کی وجہ سے اسے پیچھے ہٹنا پڑا۔

انہوں نے کہا، "ریلوے کے ملازمین این پی ایس یعنی نئی پنشن اسکیم کے خلاف ہیں اور اس بار اگر پی ایم مودی دوبارہ انتخابات میں آتے ہیں تو انہیں ان سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔”

ریلی میں سی پی آئی ایم ایل کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ، کانگریس لیڈر سندیپ ڈکشٹ، دہلی کانگریس کے صدر ارویندر سنگھ لولی، ایس پی کے بہاری یادو، بی ایس پی کے لوک سبھا ایم پی شیام سنگھ یادو، سابق ایم پی اور ورکرز ایمپلائز کانگریس کے چیئرمین ڈاکٹر ادت راج نے شرکت کی۔

منتظمین کا کہنا تھا کہ اس ریلی کی تیاریاں گزشتہ کئی ماہ سے جاری تھیں۔ وجے کمار بندھو نے بہار کے چمپارن سے ممبئی تک ملک بھر میں 18 ہزار کلومیٹر کا سفر کیا تھا۔

منتظمین میں سے ایک ڈاکٹر کمال عصری نے کہا کہ دہلی پولیس نے اس میگا ریلی کی اجازت دینے میں کافی تاخیر کی اور اجازت صرف ڈیڑھ دن پہلے ہی ملی تھی جس کی وجہ سے اسٹیج کا انعقاد بھی نہیں ہو سکا۔ وجے بندھو نے بتایا، ‘پورا رام لیلا میدان ملک بھر کے سرکاری ملازمین سے بھرا ہوا تھا۔ لوگ آتے رہے لیکن پولیس نے ڈیڑھ بجے ریلی ختم کرنے کو کہا۔

پرانی پنشن سکیم کو لے کر گزشتہ کئی سالوں سے سرکاری ملازمین ملک بھر میں احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ مسئلہ گزشتہ چند اسمبلی انتخابات میں بھی ایک مسئلہ بنا۔ راجستھان، ہماچل پردیش، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ اور پنجاب جیسی ریاستوں نے بھی اپنے ریاستی ملازمین کے لیے اسے نافذ کیا ہے۔ یہ ہماچل میں کانگریس کا سب سے بڑا انتخابی وعدہ تھا۔ کانگریس نے مدھیہ پردیش میں بھی او پی ایس لاگو کرنے کا وعدہ کیا ہے۔