حیدر آباد : 29؍ اپریل ( ایجنسیز )
تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو دہلی پولس نے وزیر داخلہ امت شاہ کی جعلی ویڈیو وائرل کرنے کے سلسلے میں سمن جاری کرتے ہوئے بدھ کو طلب کیا ہے۔
ذرائع کے بموجب تلنگانہ کے چار دیگر لوگوں جن میں ایم ستیش، نوین، شیوا شنکر اور اسما تسلیم شامل ہیں کو بھی اس کیس کی انکوائری میں شامل ہونے کے لیے نوٹس بھیجے گئے ہیں۔
ویڈیو کو مبینہ طور پر تلنگانہ کانگریس کے آفیشل ٹویٹر (X) ہینڈل سے شیئر کیا گیا تھا، جس کے بعد پارٹی کے کئی لیڈران نے ویڈیو کو دوبارہ پوسٹ کیا تھا۔
واضح ہو کہ چیف منسٹر تلنگانہ جو کہ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بھی ہیں، کے توئٹر (X) ہینڈل سے وزیر داخلہ امیت شاہ کا ایک ویڈیو بیان شئیر کیا گیا تھا جس میں وہ ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور مسلم تحفظات کو ختم کرنے کی بات کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
دہلی پولیس نے آج حیدر آباد کے گاندھی بھون پہنچ کر وزیر داخلہ امیت شاہ کے ڈیپ فیک ویڈیو شئیر کرنے کی تحقیقات بھی کی۔ دہلی پولیس نے تلنگانہ کانگریس سوشل میڈیا انچارج ستیش کو سی آر پی سی 91 کے تحت نوٹس حوالے کئے۔
جعلی ویڈیو کو کس نے تیار کیا اس پر دہلی پولیس کی خصوصی ٹیم دریافت کررہی ہے۔
اسی کیس میں دہلی پولیس نے آسام میں ریتوم سنگھ نامی ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔ اس کی اطلاع خود چیف منسٹر آسام ہیمنتو بسوا شرما نے ٹویٹ کرتے ہوئے دی۔
اس سے قبل دہلی پولس نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل جعلی ویڈیو پر مقدمہ درج کر لیا تھا۔
شئیر کئے گئے اس ویڈیو میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایس سی، ایس ٹی اور اوبی سی کے ریزرویشن کو ختم کرنے کی وکالت کرتے دکھایا گیا ہے۔
وزارت داخلہ نے اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے شکایت درج کروائی تھی، جس کے بعد یہ کاروائی کی گئی ہے۔

