عادل آباد میں پیش آئے واقعہ کے خلاف ضلع مہتمم تعلیمات سے نمائندگی۔کاروائی کا مطالبہ
عادل آباد : 30/ڈسمبر (اپنا وطن نیوز)
ریاست تلنگانہ کے ضلع مستقر عادل آباد میں قائم ایک خانگی اسکول انتظامیہ کی شرانگیزی کے خلاف مختلف سیاسی جماعتوں کے مقامی قائدین نے ضلع انتظامیہ سے سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق انڈین یونین مسلم لیگ، کانگریس ، مجلس و دیگر جماعتوں کے قائدین نے ضلع مہتمم تعلیمات سے علحدہ علحدہ ملاقات کرتے ہوئے مقامی لٹل فلاور انگلش ہائی اسکول کے انتظامیہ کے خلاف تحریری نمائندگی کی اور الزام عائد کیا کہ وہ معاشرہ میں بد امنی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں جس سے امن و امان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ذمہ داران نے بتایا کہ چند یوم قبل مذکورہ اسکول کے انتظامیہ نے اپنے طلبا کو تعلیمی تفریح کی غرض سے ایک بس میں سفر کروایا تھا جس میں اقلیتی طبقہ کے بھی طلبا موجود تھے، دوران سفر ایک مخصوص فرقہ سے متعلق متنازعہ گیت کو بس کے آڈیو ٹیپ کے ذریعہ بجایا گیا اور اساتذہ و طلبا کو اس گیت پر رقص کرتے دیکھا گیا ہے۔
اس طرح کا عمل غیر جمہوری اور ایک فرقہ کے خلاف نفرت پر مبنی ہے جس کی مذمت کی جانی چاہئے۔
قائدین نے ضلع مہتمم تعلیمات سے گزارش کی کہ وہ مذکورہ اسکول انتظامیہ کے خلاف ضروری کاروائی کریں بصورت دیگر وہ اعلیٰ عہدیداران سے اس واقعہ کی نمائندگی کریں گے۔
بعد ازاں فیاض احمد شمع نے میڈیا نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے شہر کی مسلم جماعتوں جمعیت العلما، جماعت اسلامی و دیگر جماعتوں کے ذمہ داروں سے اپیل کی کہ وہ اس مسلہ پر اپنی چپکی توڑیں اور اعلیٰ حکام سے اس بابت نمائندگی کی جائے۔
اس موقع پر دیگر قائدین سید فیاض ہاشمی ضلعی صدر انڈین یونین مسلم لیگ، محمد رفیق، نور خان پٹھان و دیگر موجود تھے۔

مجلس کے مقامی قائدین ضلع مہتمم تعلیمات سے نمائندگی کرتے ہوئے۔
اسی طرح مقامی مجلس کے سابق کونسلر اشوک، جوائنٹ سکریٹری شکیل احمد، وارڈ صدر سبحان، عبدالرحمن، احمد خان و دیگر نے بھی ضلع مہتمم تعلیمات سے ان کے دفتر میں ملاقات کرتے ہوئے مذکورہ اسکول کے انتظامیہ کے خلاف شکایت کی۔
ان قائدین نے کہا کہ اسکول انتظامیہ نے ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 28 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں کے اندر متنازعہ گیت گائے ہیں لہذا انتظامیہ اور ٹیچرس کے خلاف کاروائی کی جانی چاہئے۔

