بھینس دودھ نہ دے اور مرغی انڈے نہ دے تو کیا اس کے لئے مسلمان ذمہ دار ہیں؟۔اسد الدین اویسی

حیدر آباد : 15 ؍ جولائی (اپنا وطن نیوز بیورو ) 
چیف منسٹر آسام مسٹر ہمنتا بسوا شرما کے اس بیان پر کہ ’’ میاں مسلمانوں کی جڑیں بنگلہ دیش میں ہیں ، مسلمان گوہاٹی میں قیمتیں بڑھا رہے ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں سبزیوں کی قیمتیں کم ہیں‘‘ صدر مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمان حیدر آباد مسٹر اسد الدین اویسی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعہ طنز کستے ہوئے کہا کہ
’’ملک میں ایک ایسا گروہ ہے جو میا ں مسلمانوں کو ہر غلط کام کے لیے مورد الزام ٹھہرائے گا، اگر بھینس دودھ نہیں دیتی ہے، یا مرغی انڈے نہیں دیتی ہے تب اس کے لئے بھی مسلمان ہی ذمہ دار قرار دئیے جائیں گے۔‘‘
Asaduddin Owaisi Tweet on Hemantu Biswa Sharmas Remarks

واضح ہو کہ آسام کے وزیر اعلیٰ نے اے آئی یو ڈی ایف کے بدرالدین اجمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ، "آج زیادہ تر سبزی بیچنے والے، رکشہ چلانے والے، بس ڈرائیور، اولا-اوبر ڈرائیور میا ں مسلمان ہیں۔ مقامی آسامی نوجوانوں کو ان سے مقابلہ کرنا چاہیے اور ان نوکریوں کو چھیننا چاہیے۔”
ہمنتا بسوا کے اسی بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اویسی نے  یہ بھی کہا کہ پی ایم مودی نے غیر ملکی مسلمانوں کے ساتھ گہری دوستی کی ہے۔ اویسی نے اپنے ٹویٹ کہا کہ، "ان سے کچھ ٹماٹر، پالک اور آلو مانگیں۔”
پی ایم مودی نے حال ہی میں مصر کا دورہ کیا تھا اور انہیں صدر عبدالفتاح السیسی نے ملک کے اعلیٰ ترین اعزاز ‘آرڈر آف دی نیل’ سے نوازا تھا۔ مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل العیسیٰ نے دہلی میں وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی جب وہ ہندوستانی حکومت کی سرکاری دعوت پر آئے تھے۔