سنسنی خیز فائنل میں جنوبی افریقہ کو 7 رنز سے شکست، انڈیا ٹی20 کرکٹ کا دوبارہ چیمپئن

بار بڈوس: 30؍ جون (انٹرنیٹ ڈیسک)

ایک ارب 40 کروڑ ہندوستانیوں کی دعاؤں اور توقعات پر پورا اترتے ہوئے روہت شرما کی قیادت والی ٹیم نے ہفتہ کو اتحاد، ہمت اور تحمل کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دلچسپ مقابلے میں جنوبی افریقہ کو سات رن سے شکست دے کر 17 سال بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت لیا۔

اس سے قبل ہندوستان نے 2011 میں آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ جیتا تھا جس کے بعد ہندوستان نے 2013 میں چیمپئنز ٹرافی جیتی تھی۔

اس لحاظ سے ہندوستان نے 11 سال بعد آئی سی سی ٹرافی جیتی ہے۔

اس تاریخی جیت کے بعد ٹیم انڈیا کو مبارکباد دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

اسی سلسلے میں  صدر دروپدی مرمو نے بھی مبارکباد دی۔ صدر کی جانب سے یہ پیغام کہ یہ ایک غیر معمولی جیت تھی، ٹیم انڈیا! کبھی نہ ہار ماننے  والے جذبے کے ساتھ، ٹیم نے مشکل حالات پر قابو پالیا اور پورے ٹورنامنٹ میں بہترین مہارت کا مظاہرہ کیا۔

فائنل میچ میں یہ ایک غیر معمولی فتح تھی۔ شاباش، ٹیم انڈیا! ہمیں تم پر فخر ہے۔”

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ٹیم انڈیا کو مبارکباد دی اور کہا کہ ہمیں ہندوستانی کرکٹ ٹیم پر فخر ہے۔

وزیر اعظم مودی نے انسٹاگرام پر مبارکباد کا ویڈیو پوسٹ کیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے لکھا، "چیمپیئن! ہماری ٹیم زبردست انداز میں ٹی ٹوئنٹی عالمی  کپ گھر لے آئی! ہمیں ہندوستانی کرکٹ ٹیم پر فخر ہے۔ یہ میچ تاریخی تھا۔”

وزیر اعظم مودی نے ویڈیو میں کہا، "اس شاندار جیت کے لیے تمام ہم وطنوں کی طرف سے ٹیم انڈیا کو بہت بہت مبارکباد۔ آج 140 کروڑ ہم وطن آپ کی شاندار کارکردگی پر فخر محسوس کر رہے ہیں۔‘‘

کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے بھی ٹیم انڈیا کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے انسٹاگرام پر لکھا، "حیرت انگیز ٹیم انڈیا! ہندوستان نے ٹی ٹوینٹی عالمی کپ جیت کر تاریخ رقم کی ہے۔ یہ پورے ملک کے لئے بہت خوشی کا موقع ہے۔ تمام ہم وطنوں اور ہمارے تمام کھلاڑیوں کو بہت بہت مبارک ۔ ”

قبل ازیں سنسنی خیز فائنل میں انڈیا نے جنوبی افریقہ کو 7 رنز سے شکست دے کر17 سال بعد ٹائٹل دوبارہ اپنے نام کر لیا۔

سنیچر کو کینسنگٹن اوول سٹیڈیم بارباڈوس میں جنوبی افریقہ کی ٹیم 177 رنز کے ہدف کے تعاقب میں مقررہ 20 اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 169 رنز ہی بنا سکی۔

اس سے قبل انڈیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 176 رنز بنائے تھے۔

 

جنوبی افریقہ کی اننگز

ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ نے بیٹنگ کا آغاز کیا تو اس کی  پہلی وکٹ صرف سات رنز پر گر گئی جب ریزا ہینڈرکس صرف چار رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

ون ڈاؤن آنے والے کپتان ایڈن مارکرم بھی ٹیم کے مجموعی سکور میں کوئی بڑا اضافہ کرنے میں ناکام رہے اور صرف چار رنز پر وکٹ گنوا بیٹھے۔

ان کے بعد ٹرسٹن سٹبس نے وکٹ کیپر کوئنٹن ڈی کوک کا ساتھ نبھاتے ہوئے ٹیم کا مجموعی سکور آگے بڑھایا۔

ٹرسٹن سٹبس ایک چھکے اور تین چوکوں کی مدد سے 31 رنزبنا کر اکشر پٹیل کے ہاتھوں کلین بولڈ ہوگئے۔

وکٹ کیپر کوئنٹن ڈی کوک ایک چھکے اور چار چوکوں کی مدد سے 31 رنز بنا کر ارشدیپ سنگھ کی بال پر کلدیپ یادو کو کیچ دے بیٹھے۔

ہینری کلاسن نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے انڈین بولرز کو آڑے ہاتھوں لیا اور پانچ چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے ٹی20 ورلڈ کپ 2024 کی تیز ترین ففٹی بنا ڈالی، تاہم ان کی وکٹ گرنے کے بعد انڈین بولرز نے میچ پر گرفت مضبوط کر لی۔

وہ  27 گیندوں پر 52 رنز بنانے کے بعد ہاردک پانڈیا کا شکار بنے، وکٹ کیپر رشبھ پنت نے ان کا کیچ لیا۔

اس کے بعد مارکو یانیسن کریز پر آئے، تاہم وہ صرف دو رنز ہی بنانے کے بعد بمراہ کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ 

ڈیوڈ ملر نے ٹیم کا سکور آگے بڑھانے کی کوشش کی لیکن وہ 21 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ ہاردک پانڈیا کی بال پر کلدیپ یادیو نے ان کا کیچ لیا۔

اس کے بعد کاگیسو ربادا چار رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ کیشو مہاراج دو اور اینرک نوکیا ایک رن کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔

انڈیا کی جانب سے ہاردک پانڈیا نے تین، ارشدیپ سنگھ اور جسپریت بمراہ نے دو دو جبکہ اکشر پٹیل نے ایک وکٹ حاصل کی۔

جسپریت بمراہ کو شاندار بولنگ پر ایونٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

انڈیا کی اننگز

انڈیا نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا آغاز کیا تو پہلے اوور میں اوپنرز روہت شرما اور وراٹ کوہلی کی جانب سے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا گیا۔

ابتدائی اوور میں دونوں بیٹرز کی ہٹنگ سے محسوس ہو رہا تھا کہ اوپنرز طویل اننگز کھیلیں گے لیکن قسمت نے روہت شرما کا زیادہ ساتھ نہ دیا۔

کپتان روہت شرما کی صورت میں انڈیا کو پہلا نقصان ہوا۔ وہ دو چوکوں کی مدد سے نو رنز بنا کر ہینری کلاسن کی گیند پر اونچی شاٹ کھیلنے کی کوشش میں کیشو مہاراج کو کیچ تھما بیٹھے۔

اس کے بعد ون ڈاؤن آنے والے رشبھ پنت بھی صفر پر چلتے بنے۔

سوریا کمار یادو کا بلا بھی نہ چل سکا اور وہ صرف تین رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

اکشر پٹیل کریز پر اترے اور انڈیا کی لڑکھڑاتی بیٹنگ لائن کو سہارا دیا۔ وہ چار چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 47 رنز بنائے کے بعد وکٹ کیپر کوئنٹن ڈی کوک کے ہاتھوں رن آؤٹ ہوگئے۔

وراٹ کوہلی ٹورنامنٹ میں پہلی مرتبہ فارم میں نظر آئے اور ایونٹ میں اپنی پہلی نصف سینچری بنائی۔ کوہلی نے دو چھکوں اور چھ چوکوں کی مدد سے 59 گیندوں پر 76 رنز بنا کر ٹیم کا مجموعی سکور 176 تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہیں عمدہ کارگردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

میچ کے بعد انٹرویو میں انہوں نے ٹی20 کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کا انڈیا کے لیے یہ آخری ورلڈ کپ تھا۔

رویندر جدیجہ صرف دو رنز بنا سکے، شیوم دوبے ایک چھکے اور تین چوکوں کی مدد سے 27 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ ہاردک پانڈیا پانچ رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔