نرمل : 03/جون ( پریس نوٹ)
جمیعۃعلماء (ارشد مدنی) نرمل کے ایک وفد نے ضلع کلکٹر اشیش سانگوان کو ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے ارباب مجاز سے مطالبہ کیا کہ وہ ‘ہم دو ہمارے 12’ نام کی متنازعہ فلم کی ریلیز پر فوری روک لگائی جائے۔
اس متنازعہ فلم کے ٹریلر پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے وفد نے کہا کہ یہ ایک نہایت زہریلی اور شر انگیز فلم ہے جو مسلمانوں کو بدنام کرنے اور نفرت پھیلانے کے ارادے سے بنائی گئی ہے۔
اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مفتی عبدالعلیم فیصل قاسمی جنرل سیکریٹری جمیعۃعلماء نرمل نے کہا کہ متنازعہ فلم جس میں اسلام، مسلمان، اور قرآن کی توہین کی گئی ہے،قرآنی آیات کا غلط استعمال کیا گیا، اسلام کی شبیہ کو بگاڑ کر غلط تاثر دینے اور اس سے لوگوں کو متنفر کرکے دلوں میں نفرت،بغض، اسلام سے دوری پیدا کرنے کی کوشش کی گئ ہے،جس سےنہ صرف ہدایت کار کا اسلام دشمن چہرہ عیاں ہوتا ہے ،بلکہ ان کی بیمار ذہنیت کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ ماضی میں بھی اس طرح کی فلمیں بنائی گئی جس سے نہ صرف مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ، ان کے مذہبی جذبات بھی مجروح ہوئے ، بلکہ حالات نے دیکھتے ہی دیکھتے فرقہ وارانہ فسادات کا راستہ اختیار کر لیا۔
انہوں نے سنسر بورڈ پر اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس طرح کی فلمیں ریلیز کر نے کی کیسے اجازت دے سکتا ہے، جبکہ ماضی کی فلمیں سماج کو ایک دھارے میں شامل کرنے اور جوڑنے کیلئے بنائی جاتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کوئی بھی ترقی اور عروج پر پہنچنے کے لئے اسلام اور مسلمانوں کا سہارا لیتا ہے،چاہے وہ سیاسی میدان ہو ،یا کھیل اور فلمی صنعت کا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی دل شکنی اور دل آزاری کے بغیر ترقی کا تصور ناممکن اور ادھورا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے، اس کی روشن تعلیمات نے دنیائے جہالت سے تاریکیوں کو ختم کیا متنازعہ فلم سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئ ہے کہ اسلام میں عورتوں پر ظلم،جبر اور تشدد برتا جاتا ہے، ان کے حقوق کی کوئی رعایت نہیں کی جاتی انہیں معاشرے میں عزت کا کوئی مقام حاصل نہیں ہے، جبکہ اسلامی تعلیمات کا گہرائی اور گیرائی سے مطالعہ کرنے اور شفافیت کے ساتھ اس پر ریسرچ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ جو عزت،وقار اور مقام اسلام نے عورتوں کو دیا ، ان کے حقوق کی ادائیگی کی جتنی رعایت کی، چاہے وہ باپ ہو،بیٹاہو، شوہر ہو، یا بھائی ،سب کو عورتوں کے حقوق کی ادائیگی کا پابند کیا، جس کی مثال پیش کر نے سے آج بھی دنیا کے سب ہی مذاہب قاصر ہے۔
انہوں نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فلم پر پابندی عائد کرے ،مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرے۔
اس کے علاوہ صدر جمیعۃعلماء نرمل مفتی سید کلیم الدین قاسمی، مفتی ریاض الدین انصاری نے بھی اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ اسلام میں ظلم وتشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے،اس فلم کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسلام کی غلط تصویر پیش کر کے مذہبی منافرت پھیلا نے کی کوشش کی گئ ہے، جس کو کبھی نہیں بخشا جائےگا۔
اس وفد میں مفتی ندیم علی قاسمی، مفتی عبدالحکیم قاسمی، مولانا مبین قاسمی ،مولوی انور حسین، رشیدعالم الحفیظی، ودیگر شامل تھے۔

