عوام اور کسانوں کے مفاد میں جیل جانے کے لئے تیار ہوں

پولیس اصول و انصاف سے کام کرے ورنہ اقتدار پر واپسی کے بعد سود سمیت کاروائی کرنے کے ٹی آر کا انتباہ

عادل آباد میں منعقدہ کسانوں کے احتجاجی دھرنے میں شرکت

عادل آباد : 24/اکتوبر (اپنا وطن نیوز)

بھارت راشٹریہ سمیتی (بی آر ایس) کے کارگزار صدر و سابق ریاستی وزیر مسٹر کے۔ تارک راما راؤ نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر وہ اس ریاست کے عوام اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے جیل جانے کے لیے بھی تیار ہیں۔

کے ٹی آر جو کہ آج سابق ریاستی وزیر مسٹر جوگورامنا کی جانب سے ضلع مستقر عادل آباد کے رام لیلا میدان پر منعقدہ کسانوں کے احتجاجی دھرنے میں شرکت کررہے تھے نے جلسہ کو مخاطب کیا۔

انھوں نے کہا کہ کانگریس دور اقتدار میں ریاست کی ترقی ٹھپ ہوکر رہ گئی ہے، عوام کئی مسائل سے دوچار ہیں۔ یہی نہیں بلکہ خود ملازمین پولیس کے اہل خانہ بھی سڑکوں پر حکومت کے خلاف مظاہرہ کررہی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست کا نظم و ضبط اور اس کی ترقی ٹھپ ہوکر رہ چکی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ جب وہ حیدر آباد سے عادل آباد کے لئے روانہ ہوئے تب درمیان میں ڈچپلی کےقریب انھیں احتجاجی خواتین  دھرنا دیتی ہوئی ملیں۔ میں نے پوچھا کیا مسئلہ ہے؟ وہ پولیس والوں کی بیویاں تھیں۔ یہ تمام بہتر پولیس سسٹم کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف مظاہرہ کررہی تھیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ آخر کار کانگریس کے دور حکومت میں پولیس والوں کی بیویاں بھی دھرنا دینے پر مجبور ہوگئی ہیں؟

کے ٹی آر نے ضلع عادل آباد کے اوٹنور میں حالیہ دنوں ان پر درج کئے گئے پولیس مقدمہ کے ضمن میں کہا کہ اگر پولیس کو دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کرنا ہے تو وہ ریاستی وزیر اعلیٰ کے خلاف 420 کی شکایت درج کرے جنھوں نے انتخابات سے قبل عوام سے کئی ایک وعدے کئے اور ان کی عمل آوری میں وہ ناکام رہے ۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت کے کانگریس صدر ریونت ریڈی نے انتخابات سے قبل عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ لڑکیوں کی شادی کے موقع پر ایک طولہ سونا دیں گے،  کسانوں کو رعیتو بندھو کے تحت  قرض معاف کئے جائیں گے، بیروز گار نوجوانوں کو پہلے سال  2 لاکھ نوکریاں دیں گے، تاہم کسی ایک اسکیم کی عمل آوری میں بھی حکومت ناکام رہی لہذا عوام کی جانب سے چیف منسٹر کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کیا جانا چاہئے؟

کے ٹی آر نے کہا کہ اگر عوام پولیس اسٹیشنوں کے سامنے قطار لگائیں اور دھوکہ دہی کے مقدمات درج کریں تو اس ریاست میں کانگریس کا ایک بھی لیڈر ان مقدمات سے نہیں بچے گا۔

کے ٹی آر نے پولیس اہلکاروں اور سرکاری ملازمین کو صلاح دی کہ وہ جلد بازی میں بر سر اقتدار سیاسی قائدین کی غیر آئینی ہدایات پر عمل نہ کریں بلکہ اصول و ضوابط اور آئین و انصاف کی روشنی میں اپنے فرائض کی انجام دہی عمل میں لائیں، بصورت دیگر ایسے عہدیداران کے نام نوٹ کئے جائیں گے اور بی آر ایس کے اقتدار پر آںے کے بعد ان کے خلاف سود سمیت کاروائی کی جائی گی۔

انھوں نے کہا کہ ریونت ریڈی کوئی بادشاہ یا شہنشاہ نہیں جو مستقل اقتدار میں رہیں گے ۔ ہم چندرا بابو نائیڈواور راج شیکھر ریڈی جیسے سیاسی لیڈروں سے بھی لڑ گزرے تھے۔ اگر کسانوں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے تو بی آر ایس خاموش نہیں بیٹھے گی اور وہ احتجاج کرے گی۔

انھوں نے گجرات کی طرز پر ضلع عادل آباد کے کسانوں کو 8 ہزار سے زائد کپاس کی امدادی قیمت ادا کرنے کی ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا۔

کے ٹی آر نے بی آر ایس کے 10 سالہ دور اقتدار کو سنہرے دور سے تعبیر کرتے ہوئے بتایا کہ کے سی آر کی قیادت میں ریاست تلنگانہ امن و امان کا گہوارہ بنا رہا اور لوگ آپس میں مل جل کررہتے تھے۔ تاہم آج مختلف طبقات اور عوام کے درمیان تناؤ اور افراتفری کا ماحول ہے جس کی وہ مذمت کرتے ہیں۔

قبل ازیں سابق ریاستی وزیر جوگورامنا، رکن اسمبلی بوتھ انیل جادھو، رکن اسمبلی آصف آباد کووا لکشمی نے بھی احتجاجی جلسہ کو مخاطب کیا۔

جلسہ میں رکن اسمبلی حضور آباد پی۔کوشک ریڈی، سابق اراکین اسمبلی درگم چنیا، بالکا سمن کے علاوہ قائدین بی آر ایس بی۔جانسن نائیک، راتھوڑ جناردھن، محمد یونس اکبانی، سید ساجد الدین، تلا سرینواس، منوہر، منیشا، چارو لتا، کونسلر مبین احمد، سلیم پاشاہ، محمد ظہور الدین، اعجاز احمد، تنویر احمد، انصار احمد، شہباز و دیگر موجود تھے۔