ہندوستان ایک خاص تبدیلی کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کا مقصد 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملکہ کے طور پہ ابھرنا ہے۔ جب یہ ملک آزادی کا 100 سالہ جشن منا رہا ہوگا ۔ مشن و کست بھارت@ 2047 ایک جامع اقدام ہیں جس کا مقصد شمولیت کی ترقی ، معاشی خوشحالی اور معاشرتی انصاف ہر کسی کے لیے ممکن بنانا ہے۔ یہ ہندوستان کو ایک خود کفیل ملک کے طور پر تصور کرتا ہے ٹیکنالوجی کی ترقی، منصفانہ معاشرہ میں اور تمام اہل وطن کیلیے مواقع فراہم کرنا ہے۔
بہرحال اس مشن کی ترقی ہندوستان کے نوجوانوں کے فعال شمولیت پر منحصر ہے، خاص کر کے پسماندہ قوم سے آنے والے لوگ جیسا کہ مسلم نوجوان ۔ نوجوان کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے سب سے محرک عامل ہوتے ہیں۔ ہندوستان کی 65 فیصد آبادی 35سال کی عمر کے اندر ہے، یہ ملک دنیا کی سب سے کم عمر والے آبادی کا ملک ہے، جو بہت سارے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ نوجوانوں کے پاس طاقت، تخلیقی خیالات ، پخت عزم ہے جو معاشرتی مالی اور سیاسی تبدیلی کے خواب کو پورا کر سکتے ہیں۔
نوجوان مشن وکست بھارت 2047 کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے قابل قدر معاون ہیں۔ وہ لوگ تجارت جدیدیت تعلیم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں سب سے آگے ہے جو مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی پائیدار ترقی کے لیے وابستگی ،موسمیاتی اعمال، عدم مساوات کو دور کرنا، ہندوستان کی طاقت ان مقاصد کو پورا کرنے میں مرکوز کریگی ۔ مسلم نوجوانوں کے لیے، 2047 کی طرف کا سفر بہت ہی خاص ہے- ہندوستان کی معاشرتی اور تہذیبی اتحاد کے متصل حصہ ہونے کے باوجود مسلمان بہت سارے مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، خاص کر کے تعلیمی اور معاشی میدانوں میں۔ جیسا کہ ان کی شمولیت مشن وکست بھارت میں صرف قوم کی ترقی نہیں ہے بلکہ جامع طور پر اس ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ معتبر میدانوں میں سے ایک جہاں پر مسلم نوجوان ایک قابل قدر رول ادا کر سکتا ہے، وہ اپنی قوم کے اندر تعلیمی حصول کو بڑھاتا ہے۔ معتبر تعلیم کا حصول کرنا پسماندگی اور غربت کی دوامت کو توڑ سکتا ہے، مسلم نوجوان کو ایسے شروعات کرنا چاہیے، جیسے اعلی تعلیم حاصل کرنا پیشہ وارنہ کورسز میں ترقی کرنا تاکہ ریسرچ اور جدیدیت میں اچھا کردار ادا کر سکے۔ ایسا کر کے دوسروں کو حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں۔
اعلی تعلیم صرف انہیں طاقتور نہیں بنائے گی بلکہ انہیں ہندوستان کی ترقی میں ایک معتبر کردار ادا کرنے کے لیے بھی موقع فراہم کرے گی۔ مسلم نوجوانوں کا معاشی با اختیار ہونا تجارت کی ہنر کے ذریعہ ضروری ہے۔ وہ حکومت کے مختلف اسٹارٹ آف اسکیم اور مالی امداد کے پروگرام میں اپنی تجارت شروع کر سکتے ہیں۔ نوکری کی تخلیق اور معاشی ترقی کرتے ہوئے۔ مزید براں، ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تعلیم اور تجارت کی میدان میں ہنر کو ترقی دے کر اپنے مقاصد کی اونچائی کو حاصل کر سکتے ہیں۔ مسلم نوجوان معاشرتی انصاف اور شمولیت کی وکالت کرنے میں ایک بڑا اور خاص رول ادا کر سکتے ہیں۔ قوم کے درمیان دوری کوختم کر کے اور دقیانوسی تصورات کو چیلنج کر کے وہ یقینی بنا سکتے ہیں ہندوستان کی ترقی اتحاد اور شمولیت میں ہے۔
معاشرتی اعمال، سیاسی اور حکومت میں شامل ہو کر مسلم نوجوان اپنی قوم کی ضرورت کو پورا کرنے کو یقینی بنا سکتے ہیں اور ان کے مقاصد کو بھی پورا کر سکتے ہیں، جو قومی داستان میں درج ہوگا۔ ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی کے زمانے میں مسلم نوجوان کی شمولیت (STEM ) (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ اور میتھمیٹکس) کے میدان میں حوصلہ آفزائی کی جانی چاہیے۔ جدیدیت ٹیکنالوجی اور موسمیات کی دائمی ترقی میں ان کی شمولیت ہندوستان کو موسمیاتی تبدیلی سے لڑنے کے لیے اور ٹیکنالوجی میں بین الاقوامی لیڈر بننے کے مقاصد کے حصول میں مدد کر سکتی ہے.
مشن وکست بھارت 2047 ایک جامع خواب ہے خوشحالی شمولیت اور ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے۔ نوجوان خاص کر کے مسلم نوجوان اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ایک قابل قدر رول ادا کر سکتے ہیں۔ تعلیم، تجارت کی ہنر اور حکمت جدیدیت کا حصول کے ذریعہ وہ صرف اپنی قوم کی ترقی میں حصہ نہیں دے سکتے ہیں بلکہ وہ اس ملک کی مستقبل کی تشکیل میں اپنا رول ادا کر سکتے ہیں۔
مضمون نگار : ریشما فاطمہ، ریسرچ اسکالر

