کرائے کے قاتلوں کے ذریعہ اپنی بیٹی کے عاشق کو قتل کروانے کی کوشش کا الزام
عادل آباد : 23/ڈسمبر (اپنا وطن نیوز)
عادل آباد ڈی ایس پی وی۔ اومیندر کے مطابق مقامی بی جے پی کونسلر اشکم رگھوپتی ، اس کی اہلیہ اشکم اروندھتی کے بشمول دیگر 4 افراد کے خلاف موالا پولیس اسٹیشن میں اقدام قتل کا ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اقدام قتل کی واردات میں ملوث جملہ 6 ملزمان میں سے 4 کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے جبکہ اشکم رگھوپتی A1، اشکم اروندھتی A2 مفرور بتائے جاتے ہیں جن کو پولیس تلاش کررہی ہے۔
عادل آباد ڈی ایس پی نے اس کیس کے ضمن میں موالا پولیس اسٹیشن میں منعقدہ صحافتی کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ عادل آباد کے قریب موجود موالا موضع میں رہائش پزیر بلدیہ کونسلر رگھوپتی کی لڑکی کو دو سال قبل ایک ایس سی طبقہ کے لڑکے ومشی سے دوستی ہوئی جو بعد میں عاشقی میں تبدیل ہوگئی۔
رگھوپتی کو اس بات کا پتہ چلنے کے بعد اس نے اسی وقت ومشی کو اپنے فارم ہاؤس طلب کرتے ہوئے دھمکی دی کہ وہ اس کی لڑکی کا پیچھا چھوڑدے ۔
تاہم دو سال بعد بھی ومشی کے رویہ میں عدم تبدیلی اور اس کی لڑکی کے ساتھ عاشقی کے چکر کا مزید پتہ چلنے کے بعد رگھوپتی نے بالآخر اس لڑکے کو قتل کروانے کا منصوبہ بنایا۔
ڈی ایس پی نے اس کیس کے متعلق مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ چوہان روی نامی ملزم جو کہ مستقر عادل آباد کے کے آر کے کالونی کا رہائشی ہے اور جس پر جیند پولیس اسٹیشن میں سرقہ کی واردات کے ضمن میں ایک مقدمہ اور اسی طرح حیات نگر پولیس اسٹیشن میں سرقہ کی واردات میں ملوث رہنے پر جیل کی سزا بھی کاٹ چکا تھا، کی ملاقات حالیہ انتخابات کی تشہیر کے دوران رگھوپتی سے ہوئی تھی۔
رگھوپتی اور روی دونوں آپس میں دوست تھے جبکہ روی کا ایک اور دوست اشوک بھی تھا جنھوں نے آپس میں مل کر حالیہ اسمبلی انتخابات کی تشہیر میں حصہ لیا تھا۔
طویل وقت کے بعد روی سے دوبارہ ملاقات پر رگھوپتی نے اس کا حال چال دریافت کیا جس پر روی نے اسے سرقہ کی ایک واردات میں جیل کی سزا کاٹ کر آنے کا ذکر کیا۔
پولیس کے مطابق رگھوپتی نے بتاریخ 25.11.2023 کو، روی کے ہمراہ معاہدہ کیا کہ وہ ایک نوجوان کو جیپ سے ٹکر مار کر قتل کردے گا جس کے عوض وہ اسے 15 لاکھ روپئے ادا کرے گا۔
جیپ سے ٹکر دینے پر قتل کا کوئی شبہ نہیں ہوگا اور اسے حادثہ کا مقدمہ درج کیا جائے گا، اور اس طرح وہ اس قتل کے کیس سے بچ جائیں گے۔
دونوں کے درمیان پائے گئے معاہدے کے بعد رگھوپتی نے روی کو ایک لاکھ روپئے پیشگی ادا کئے اور اسمبلی انتخابات کے فوری بعد نوجوان ومشی کو قتل کرنے کا معاہدہ طئے پایا۔
بتاریخ 28 /نومبر کو روی اور اشوک دسنا پور کے علاقہ میں واقع رگھوپتی کے دفتر گئے اور اس سے کہا کہ وہ ومشی نامی نوجوان کا حلیہ انھیں بتائے ۔
رگھوپتی نے ان دونوں کو اپنی کریٹا کار میں ومشی کے مکان کے پاس لے گیا اور اسے وہ گھر دکھایا جس میں ومشی نامی نوجوان رہتا تھا۔
رگھوپتی کی اہلیہ نے بھی روی اور اس کے دوست سے التجا کی کہ وہ اپنی عزت بچانے کے لیے کسی بھی طرح ومشی کو مار دیں۔
بعد ازاں ومشی کے قتل کی منصوبہ بندی کی گئی، اس کے آنے جانے والے راستوں کا پتہ چلایا گیا اور طئے کیا گیا کہ ایک جیپ کی مدد سے اسے ٹکر دیدی جائے اور اسے حادثہ قرار دیا جائے۔
روی نے اشوک سے ایک جیپ کا بندوبست کرنے کو کہا جس کے بعد اشوک نامی ملزم نے اپنے دوست دلشاد سے ایک قدیم جیپ کا بندوبست کرنے کی ذمہ داری سونپی جس پر دلشاد نے اپنے ایک دوست راجو سے رابطہ قائم کیا جس کے پاس ایک قدیم کمانڈر جیپ موجود تھی۔
17/نومبر کے دن 20 ہزار روپیوں کی ادائیگی کے بعد شہر کے این ٹی آر چوک علاقہ سے ملزمان نے راجو سے جیپ حاصل کرلی۔
اس کے بعد روی اور اشوک دونوں شام کو ایک بار ومشی کے گھر گئے۔ انھیں معلوم ہوا کہ ومشی روزانہ صبح 5 بجے کے بعد دودھ لینے منی پور کالونی دودھ ڈیری جاتا ہے اور وہاں سے عادل آباد شہر میں دودھ تقسیم کرتا ہے۔
منصوبہ بندی کے تحت 18/ڈسمبر کی صبح 5 بجے کمانڈر جیپ لئے ہوئے دونوں ومشی نامی نوجوان کے تعاقب میں نکل گئے۔
اشوک نے جیپ چلائی جبکہ روی پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ کوتہ واڈا علاقہ کے قریب جیپ روک کر ومشی کا انتظار کرنے لگے۔
جیسے ہی تقریباً 5:30 بجے صبح جب ومشی اپنے گھر سے اپنی اسکوٹی گاڑی پر موالا مین روڈ پر آیا تب اشوک نے جیپ اسٹارٹ کی اور ومشی کی گاڑی کا پیچھا کیا۔
موالا کے قریب موجود شمشان گھاٹ کے پاس جیپ کی رفتار بڑھاتے ہوئے اشوک نے ومشی کی گاڑی کو زبردست ٹکر ماردی جس کے نتیجہ میں ومشی وہیں سڑک پر زخمی ہوکر گرگیا۔
بعد ازاں زخمی ومشی کو قتل کرنے کے منصوبہ کے تحت اشوک نے تیز رفتاری کے ساتھ اپنی جیپ پیچھے لی اور اس دوران وہ اپنی گاڑی کا توازن کھو بیٹھا اور جیپ پاس میں موجود الکٹرک پول سے جا ٹکرائی۔ جیپ کے ٹکرانے کے ساتھ ہی الکٹرک پول ٹوٹ کر ومشی کی ایکٹیوا گاڑی پر گرپڑا جسے دیکھ کر وہ موقع سے فرار ہو گئے۔
بعد میں ومشی کے والد کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا اور تحقیقات کے بعد پولیس نے راجو، دلشاد، اشوک اور روی کو گرفتار کر لیا۔
ملزمان کے پاس سے تقریباً 18,500/- روپے نقد، 4 موبائل فون، دو موٹر سائیکلیں اور ایک کار ضبط کی گئی۔
اس کیس میں پہلے دو ملزمان کونسلر رگھوپتی اور ان کی اہلیہ فرار ہیں۔
ضلع ایس پی نے اس کیس کو حل کرنے پر خصوصی طور پر سی آئی رورل، سی آئی جیند، سی آئی سی سی ایس، ایس آئی ماوالا، ایس آئی رورل سید مجاہد، اور آئی ڈی پارٹی رمنایا، کریم اور سی سی ایس پولیس کو مبارکباد دی جنہوں نے اس کیس کی تحقیقات میں اہم رول ادا کیا۔
واضح ہو کہ اشکم رگھوپتی جو کہ سابق میں بی آر ایس پارٹی سے وابستہ تھا اور موالا سرپنچ کی حیثیت سے اس نے اپنی سیاسی کیرئیر کا آغاز کیا تھا نے بعد ازاں عادل آباد میونسپل کونسلر کی حیثیت سے فتح حاصل کی اور حالیہ اسمبلی انتخابات سے قبل اس نے بی جے پی پارٹی میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے موجودہ رکن اسمبلی پائل شنکر کی کامیابی میں اہم رول ادا کیا تھا۔

