مکہ معظمہ : 7/جولائی (ویب ڈیسک )
حرمین شریفین کے امور کی جنرل اتھارٹی نے نئے سال کے آغاز پر غلاف کعبہ کو تبدیل کردیا۔ غلاف کعبہ کی تبدیلی کا عمل رات بھر جاری رہا۔
اس سے قبل کسوہ فیکڑی سے نیا خلاف کعبہ 13 کلو میٹر لمبے ٹریلر کے ذریعے مسجد الحرام مکہ مکرمہ منتقل کیا گیا۔

اس سے قبل کئی دہائیوں سے غلاف کعبہ (کِسوۃ) ہر سال حج کے دوران 9 ذوالحج کی صبح کو حجاج کے میدان عرفات روانہ ہونے کے بعد تبدیل کیا جاتا تھا۔
اخبار24 کے مطابق خانہ کعبہ کے پرنے غلاف کو اتار کر نیا غلاف چڑھایا گیا۔ اس کےلیے 159افراد پر مشتمل تکنیکی ماہرین اور کاریگر موجود رہے۔
فيديو | لقطات من نقل #كسوة_الكعبة الجديدة إلى المسجد الحرام #الإخبارية#التاسعة pic.twitter.com/t8S8qqz1Rb
— قناة الإخبارية (@alekhbariyatv) July 6, 2024
نیا غلاف کعبہ چار برابر پٹیوں اور ستار الباب پر مشتمل ہے۔
غلاف کعبہ تبدیلی کے تمام عمل کے دوران ہر ایک حصے کو علیحدہ علیحدہ کعبہ کے بالائی حصے پر لایا جاتا ہے جہاں سے پھر انہیں اتارا جاتا ہے اور پچھلا غلاف اتار لیا جاتا ہے۔ یہ عمل چار مرتبہ باری باری دہرایا جاتا ہے جب تک کہ نیا غلاف چڑھا نہ دیا جائے اور پرانا اتر نہ جائے۔
غلاف کعبہ کے کپڑے کی پانچ مختلف حصوں میں سلائی کے بعد اس کے زیریں حصے کو سونے کا پانی چڑھے تانبے کے 60 کڑوں کے ذریعے جوڑا جاتا ہے۔

غلاف کعبہ کا وزن 1350 کلو گرام ہے۔ یہ 98 سینٹی میٹر چوڑا اور 14 میٹر اونچا ہے۔
شاہ عبدالعزیز کمپلیکس میں غلاف کعبہ کی تیاری کے لیے لگ بھگ 670 کلوگرام ریشم کو سیاہ رنگ میں رنگا جاتا ہے۔
غلاف کعبہ کو قرآنی آیات سے سجایا جاتا ہے جنہیں سونے اور چاندی کے دھاگوں سے بُنا جاتا ہے۔ اس عمل میں 120 کلوگرام سونا اور 100 کلوگرام چاندی استعمال ہوتی ہے۔
The rings at the bottom of the Ka’bah have been installed in preparation for Kiswah change. pic.twitter.com/Z3P8A42Cd0
— The Holy Mosques (@theholymosques) July 6, 2024
خطاط، عبدالرحیم امین بخاری جن کا نام غلاف کعبہ پر تحریر کیا جاتا ہے
خطاط عبدالرحیم امین بخاری خانہ کعبہ کے دروازے اور غلاف پر کام کرنے والے اولین خطاطوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے غلاف کعبہ اور باب کعبہ کو اپنی خطاطی کے ہنرسے سجایا۔
سرکاری خبررساں ادارے ’ایس پی اے‘ کے مطابق عبدالرحیم امین بخاری مکہ مکرمہ میں 1335ھ مطابق 1917 میں پیدا ہوئے۔ انہیں بچپن سے خطاطی کا شوق تھا۔
عبدالرحیم امین بخاری نے صرف 15 برس کی عمر میں کسوہ کعبہ میں شمولیت اختیار کی اور بہترین کارکردگی پر اپنے شعبے میں فنی کارکنوں کے تکنیکی سربراہ مقرر ہوئے۔
خطاط عبدالرحیم امین بخاری وہ شخص ہیں جنہوں نے شاہ عبدالعزیز آل سعود کے دور میں غلاف کعبہ بنانے میں حصہ لیا۔
انہیں 1382ھ مطابق 1962 میں ام الجود میں غلاف کعبہ تیار کرنے والی فیکٹری کا نگران اعلی مقرر کیا گیا۔
انہوں نے 1363ھ مطابق 1943 میں خانہ کعبہ کے پہلے دروازے پر ’خط الثلث‘ میں خطاطی کی اور ڈیزائن کرنے میں حصہ لیا۔ دوسرا دروازہ جو شاہ خالد بن عبدالعزیز کے دور میں لگایا گیا۔
1399ھ مطابق 1978 میں شاہ خالد آل سعود کے حکم پر انہوں نے خانہ کعبہ کے دروازے کو اپنے فن خطاطی سے سجایا۔
عبدالرحیم امین ’خط الثلث کے ماہر مانے جاتے ہیں اور انہوں نے خانہ کعبہ کے دروازے پر اپنے فن کو انتہائی نفاست اور خوبصورت انداز میں پیش کیا۔
شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے اپنے دور میں حکم دیا تھا کہ خطاط عبدالرحیم امین کا نام خانہ کعبہ کے غلاف پر لکھا جائے جس پر آج بھی عمل جاری ہے۔


