سوشل ویلفیر گروکل ٹیچرس کی ریاستی کمیٹی کی تشکیل

اقامتی مدارس میں برسر خدمت اساتذہ کے ترقی و تبادلے عمل میں لانے کا مطالبہ

حیدر آباد : 13/جنوری (اپنا وطن نیوز)

 

یونائٹیڈ ٹیچرس فیڈریشن (یو ٹی ایف) کے ریاستی جنرل سکریٹری چاوا روی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اقامتی مدارس میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کے ترقی و تبادلے عمل میں لائے ۔
انھوں نے آج TS UTF سے منسلک سوشل ویلفیر گروکل ٹیچرس کی ریاستی کمیٹی کی تشکیل کے ضمن میں حیدر آباد میں منعقدہ اجلاس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ گروکل تعلیمی ادارہ جات کے اساتذہ پر عائد کردہ غیر تدریسی کام کے بوجھ کو کم کرے تاکہ ان مدارس تعلیمی معیار میں مزید اضافہ ہوسکے۔
اس موقع پر چاوا روی نے حکومت سے مزید مطالبہ کیا کہ وہ ریاست تلنگانہ میں علحدہ علحدہ طور پر چلائی جارہی 5 گروکل سوسائٹیوں کو ایک ہی ڈائریکٹوریٹ کے ماتحت لایا جائے۔ 
انھوں نے کہا کہ جب محکمہ اسکول ایجوکیشن میں چالیس ہزار اسکول ایک ڈائریکٹر کے دائرہ اختیار میں ہیں تو ایک ہزار گروکل مدارس کے لیے پانچ سوسائیٹیز، پانچ سیکریٹریز کی کیا ضرورت ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ قومی سطح پر گروکلا مدارس کے طلباء کی کامیابیوں کی تعریف کرنے والے حکام،  طلبا کی اس کامیابی کے پیچھے  کام کرنے والے اساتذہ کو لاحق مسائل پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
ٹی ایس یو ٹی ایف کے ریاستی خازن ٹی لکشماریڈی نے اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ گروکل اساتذہ کو ان کی خدمات کے عوض مناسب اجرت دی جانی چاہیے اور مطالبہ کیا کہ تمام گروکل مدارس کے لیے مستقل عمارتیں تعمیر کی جائیں۔
قبل ازیں سوشل ویلفیئر گروکل ٹیچرس اسوسی ایشن کی ریاستی کمیٹی کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔
جس میں ڈی ایلیا (آصف آباد) کو بطور صدر، ایس ششی دھر (نلگنڈہ) جنرل سکریٹری، محمد انیسا (سدی پیٹ) خازن،  وی بوس، اے پریم کمار، پی نریندر، ٹی مادھوی، واصف اعظم، رحیم پاشاہ کا بطور نائب صدور، سیمسن، ایم۔ جناردھن، پشپا، کرشنیا کا سکریٹری کے طور پرمنتخب کیا گیا۔