ٹرینڈ ٹیچرس کا دفتر ڈائریکٹرآف اسکول ایجوکیشن کا گھیراؤ

TRT Students Protest

ٹیٹ کے ساتھ ڈی ایس سی نوٹیفکیشن کی اجرائی کا مطالبہ

حیدر آباد : 18 ؍ جولائی (اپنا وطن نیوز )

ٹرینڈ ٹیچرس جو کہ ڈی ایڈ و بی ایڈ کورسس کی تکمیل کے بعد اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر بھرتی کے لئے اعلامیہ کا انتظار کررہے تھے ، نے آج دفتر کمشنر و ڈائریکٹر محکمہ اسکولی تعلیمات حیدر آباد کا گھیراؤ کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فی الفور ٹی آر ٹی (ڈی ایس سی ) اعلامیہ کی اجرائی عمل میں لائے۔

سینکڑوں ٹرینڈ ٹیچرس جو کہ اپنی گود میں کمسن بچے اور ہاتھوں میں پلے کارڈس اٹھائے ہوئے تھے، نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی جس کے بعد پولیس کی بھاری جمعیت دفتر کے پاس اکھٹا دیکھی گئی۔ بعد ازاں پولیس نے احتجاجی ٹرینڈ ٹیچرس کو گرفتار کرلیا۔ بعد ازاں ان کی رہائی عمل میں آئی۔


احتجاج کا ویڈیو انڈین ایکسپریس کے جرنلسٹ کے ٹوئٹر ہینڈل سے لیا گیا ہے۔


احتجاج کے موقع پر ٹرینڈ ٹیچرس نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ٹیچرس اہلیتی امتحان ’’ ٹیٹ‘‘کے ذریعہ تربیت یافتہ ٹیچرس کو صرف بہلانا چاہتی ہے جبکہ ہمارا مطالبہ فی الفور ڈی ایس سی نوٹفکیشن کی اجرائی ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت صرف وقت گزاری کے لئے ٹیٹ امتحان کا اعلامیہ جاری کرنے والی ہے جبکہ بیشتر امیدواران گذشتہ تین تا چار سالوں سے ٹی آر ٹی امتحان کی تیاری میں مشغول ہیں تاکہ اعلامیہ کی اجرائی کے بعد وہ امتحان میں شریک ہوسکیں۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ خود وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ نے اسمبلی میں 15 ہزار سے زائد اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں کا ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ عنقریب ڈی ایس سی یا ٹی آر ٹی نوٹفکیشن کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی، تاہم ایسا نہیں ہوا اور اب حکومت ٹیٹ کے ذریعہ امیدوار اساتذہ کو بہلانا چاہتی ہے۔

ٹرینڈ ٹیچرس قائدین نے حکومت پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ حکومت نے گذشتہ 6 سال سے اساتذہ کے تقررات کے لئے اعلامیہ کی اجرائی عمل میں نہیں لائی ہے جبکہ دیگر تمام محکمہ جات میں مخلوعہ جائیدادوں پر بھرتی کے لئے نوٹفکیشن جاری کئے جارہے ہیں۔

امیدواروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاست میں انتخابی اعلامیہ کی اجرائی سے قبل ہی ، ٹیٹ کے ہمراہ ٹی آر ٹی یا ڈی ایس سی کا اعلامیہ بھی جاری کریں ۔