مسلم طبقہ کی ابتر حالت کے لئے کانگریس پارٹی ذمہ دار۔امتیاز اسحاق
عادل آباد : 27 / ستمبر (اپنا وطن نیوز)
اقلیتی مالیاتی کارپوریشن ریاست تلنگانہ کی جانب سے آج حلقہ اسمبلی عادل آباد کی مسلم خواتین میں ’’کے سی آر کا تحفہ، خواتین کے لئے بھروسہ‘‘ اسکیم کے تحٹ سلائی مشینوں کی تقسیم عمل میں لائی گئی۔
چیر مین میناریٹی فینانس کارپوریشن امتیاز اسحاق ، رکن اسمبلی عادل آباد جوگورامنا، رکن ریاستی اقلیتی کمیشن محمد اطہر اللہ نے بحیثیت مہمانان خصوصی اس پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے استفادہ کنندگان میں سلائی مشینوں کی تقسیم عمل میں لائی۔

قبل ازیں پروگرام کو مخاطب کرتے ہوئے چیر مین میناریٹی فینانس کارپوریشن امتیاز اسحاق نے موجودہ ٹی آر ایس حکومت کو اقلیت دوست حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کی دور اندیشی کی بدولت ریاست تلنگانہ کے مسلمان مختلف شعبہ حیات میں ترقی کے ثمرات حاصل کررہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کو ذہن میں رکھتے ہوئے ٹمریز کے تحت ریاست بھر میں اقلیتوں کے لئے 204 مدارس و کالجس کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ مسلمانوں کے بچے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں۔
اسی طرح شادی مبارک اسکیم کے تحت کروڑوں روپئے جاری کئے جارہے ہیں جو کہ بن بیاہی مسلم غریب لڑکیوں کی شادیوں کے لئے بیحد معاون ہیں۔
یہی نہیں بلکہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے تحت بیروزگار نوجوانوں کو قرضہ جات کی فراہمی، بیوہ و بیروزگار خواتین کو خود مکتفی بنانے کی غرض سے ہزاروں کی تعداد میں سلائی مشینوں کی تقسیم ، اوور سیز اسکالرشپس کی منظوری وغیرہ اسکیمات مسلمانوں کی فلاح بہبود کے لئے اٹھائے جارہے ٹھوس اقدامات میں شامل ہے۔

انھوں نے سابقہ کانگریس حکومت پر طنز کستے ہوئے کہا کہ اپنے 60 سالہ دور اقتدار میں مسلمانوں کو پسماندگی کی طرف ڈھکیلنے والے اب مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے جھوٹے وعدے کررہے ہیں جبکہ ان ہی کے دور اقتدار میں مسلمان دلتوں سے بھی پچھڑے کردئیے گئے جو کہ خود سچر کمیٹی کی رپورٹ میں شامل ہے۔
امتیاز اسحاق نے رکن اسمبلی عادل آباد جوگورامنا کو سیکولر لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقامی مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل حل کرنے کے لئے ہمیشہ دستیاب رہتے ہوئے جوگورامنا نے بہتر مثال پیش کی ہے۔ انھوں نے 17 کروڑ روپیوں کی منظوری کے ذریعہ مسلمانوں کی عبادتگاہوں و درگاہوں کے تعمیراتی کاموں کا آغاز عمل میں لایا ہے جو کہ قابل ستائش ہے۔
اسی طرح 350 کروڑ روپیوں کے ذریعہ شہر کی ترقی میں بھی جوگورامنا کی کاوشیں لائق ستائش ہیں۔
قبل ازیں رکن اسمبلی عادل آباد جوگورامنا نے کہا کہ ہر انتخاب کے موقع پر ان کی کامیابی میں مسلم رائے دہندوں کا کلیدی رول ہوتا ہے لہذا وہ مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے اور انھیں حکومت کی فلاحی اسکیمات سے فائدہ پہنچانے کی حتی المقدور کوشش کرتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ حلقہ اسمبلی عادل آباد میں مسلم طبقہ کی عوام کی کثیر تعداد موجود ہے لہذا انھوں نے مزید 100 سلائی مشینوں کی منظوری عمل میں لانے کا چیر مین اقلیتی مالیاتی کارپوریشن سے مطالبہ کیا۔
نائب صدر نشین بلدیہ عادل آباد مسٹر ظہیر رمضانی نے اپنی مخاطبت میں کانگریس سے ہوشیار رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اسی حکومت کے دور اقتدار میں بابری مسجد کو شہید کردیا گیا اور مسلمانوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے گئے، اور اب یہی جماعت بھیس بدل کر مسلمانوں سے جھوٹے وعدے کررہی ہے۔ انھوں نے مسلم خواتین سے ہوشیار رہنے اور ٹی آر ایس کے حق میں اپنے ووٹوں کے استعمال کی اپیل کی۔
اسی طرح سید ساجد الدین سکریٹری بی آر ایس پارٹی نے بھی جلسہ کو مخاطب کیا اور کہا کہ مغربی بنگال میں ولی رحمانی نامی نوجوان مسلم غریب بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے معیاری اسکولس کی تعمیر کے لئے فنڈس اکھٹا کرنے پر مجبور ہے جبکہ مغربی بنگال میں سیکولر کہنے والی ممتا بنرجی کی حکومت ہے۔
انھوں نے کہا کہ فنڈ جمع کرنے اور مسلم بچوں کو اعلی و معیاری تعلیم کی فراہمی کے لئے تلنگانہ ایک مثالی ریاست ہے جہاں خود حکومت ٹمریز کے تحٹ معیاری مدارس چلا رہی ہے۔
محمد سلیم پاشاہ صدر اقلیتی سیل بی آر ایس نے بھی جلسہ کو مخاطب کیا۔
قبل ازیں چیر مین میناریٹی فینانس کارپوریشن امتیاز اسحاق، رکن اسمبلی جوگورامنا، رکن ریاستی اقلیتی کمیشن محمد اطہر اللہ، چیر مین ڈی سی سی بینک اڈی بھوجا ریڈی، نائب صدر نشین بلدیہ ظہیر رمضانی، محمد یونس اکبانی کی ضلع اقلیتی بہبود آفیسر راتھوڑ رمیش کے علاوہ بی آر ایس پارٹی قائدین و کارکنان نے بکثرت شال پوشی کی۔

