عادل آباد : 24/ستمبر (پریس نوٹ)
شعبہ خواتین جماعت اسلامی ہندعادل آباد کے زیر اہتمام ایک ٹیچرس میٹ بضمن مہم ” اخلاقی محاسن آزادی کے ضامن " منعقد کی گئی جس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ اخلاق ہر مذہب میں ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اخلاقی بے راہ روی کی روک تھام کے کیا طریقہ اختیار کئے جا سکتے ہیں ۔
پرگرام کا آغاز محترمہ امرین صدف کی تلاوت قرآن اور ترجمانی سے ہوا اس کے بعد ایک مذاکرہ رکھا گیا ۔
محترمہ فہمیدہ تنویر صاحبہ نے "سماجی اقدار پر سوشل میڈیا کے اثرات ” پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج ہر فرد سوشل میڈیا کا استعمال کر رہا ہے اس کے جہاں فائدے ہیں وہیں نقصانات بھی ہیں۔ خاص طور پر بچے اس سے بہت زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اس کا استعمال اچھے مقاصد کے لئے کرنا چاہئے.۔
” مسابقتی دور میں ہمدردی کو کیسے فروغ دیں” کے عنوان پر محترمہ فاکہہ عبادالرحمن صاحبہ نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اس مسابقتی دور میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے زندگی گزارنا ایک اہم بات ہے۔
ڈاکٹرصالحہ صاحبہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس مسابقتی دور میں منفی رویئے اختیار نہ کریں اور دلوں کو قران و حدیث کے مطالعہ سے نرم کریں ۔
” آزادی اخلاق پر پابندی ” کے عنوان پر قدسیہ کوثر صاحبہ نے مخاطب کیا ۔ محترمہ عرفانہ صاحبہ نے بھی اس پروگرام سے خطاب کیا ۔

شعبۂ خواتین جماعت اسلامی ھند عادل آباد کی ضلعی ناظمہ محترمہ ارشاد ضیاء بانو صاحبہ نے اپنے صدارتی خطاب میں بتایا کہ ہر چیز کا بہتر استعمال کرنا چاہیے، ہم سوشل میڈیا سے جڑے ہوئے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ اسکو اچھے مقصد کے لئے کار آمد بنایا جائے، دین کی تبلیغ اور ترویج کے لئے یہ ایک اہم آلہ ثابت ہو سکتا ہے اس کے علاوہ ہم قران سے اپنے تعلق کو مضبوط کریں اور استغفار کریں تا کہ ہمارے اندر بہترین اخلاقی خوبیاں پروان چڑھ سکیں ۔
نظامت کے فرائض محترمہ سارہ فاطمہ خانم صاحبہ نے انجام دئیے ۔ اس پروگرام میں خاتون ٹیچرس ، جماعت اسلامی شعبۂ خواتین کی مقامی ارکان بھی شامل تھیں۔

