"تیرے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن،
تو اس آنچل سے ایک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا۔”
بیگم قدسیہ اعزاز رسول کا سفر اس شعر کے جوہر کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں روایات کا پردہ تقویت کے پرچم میں بدل جاتا ہے۔ وہ صرف ایک رہنماء نہیں تھی بلکہ وہ حکمت و قوت کی علامت تھی، جنہوں نے ہندوستان میں مسلم عورتوں کا کردار کو دوبارہ تعارف کرایا۔ ہندوستان کی تاریخی واقعات میں وہ ترقی اور ہمت کے چمکتی ہوئی علامت تھی۔ انہوں نے مسلم عورت کی ناتسخیر روح کی علامت کو ظاہر کرتی ہے جنہوں نے معاشرہ کے رسم و رواج سے مقابلہ کیا،اس ملک کے مستقبل کی تشکیل کے لیے۔جیساکہ آئین ساز اسمبلی کے صرف ایک مسلم عورت ممبر ہونے کے ناطے،ان کی شرکت قوی بنانے کی ائیڈیل کے ساتھ گونجتی ہے، ان رکاوٹوں کو چیلنج کیا جو ان پر نافذ کیے گئے تھے مذہب، صنفی اور درجہ کے
ذریعے۔ ان کی کہانی مسلم عورتوں کے لیے آج ایک واضح دعوت ہے کہ وہ عوامی زندگی میں آگے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے حقیقی مقام کے حصول کے لیے جدوجہد کرے اس ملک کی ترقی میں۔
بیگم رسول کا سفر اس زمانے میں شروع ہوتا ہے جب عورتیں، خاص کر کے مسلم عورتیں عام لوگوں کے زندگیوں سے عام طور پر غائب ہوا کرتی تھی۔ وہ ایک مالدار گھر سے تعلق رکھتی تھی، ملیرکوٹلہ، پنجاب میں، وہ مراعات اور فرصت کی زندگی گزار سکتی تھی۔اس کے باوجود، انہوں نے لوگوں کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو قربان کر دیا، 1937 میں انہوں نے دقیانوسی تصورات کو تار تار کرتے ہوئے یونائٹڈ پروونس لیجسلیٹو کونسل کے انتخاب میں غیر ریزرویشن کی سیٹ کے لیے مقابلہ کیا اور جیتا، اور سیاست میں مسلم عورتوں کے لیے ماڈل بن گئی۔ بعد میں وہ یو پی اسمبلی میں مخالفین کے رہنماء کے طور پر 1950 میں رہیں، اور 1952 میں راجیہ سبھاکا ممبر رہیں، انہوں نے عظیم کردار ادا کیا پالیسیاں بنانے میں جو لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا۔ ان کی کامیابی مسلم عورتوں کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے جو ایک اچھی تبدیلی کے اثر کی طرف رہنمائی کرتا ہے، حالانکہ یہ مصیبت کے مقابلہ کرنے کے دوران بھی ہوا۔ بیگم رسول معاشرہ کی روایات سے مقابلہ کیا، جو کہ استقامت اور پرعزم کی کہانی ہے۔ 1937 میں انتخاب کا مقابلہ کرنے کے لیے انہوں نے پردہ کو درکنار کیا اور کھلے طور پر زمینداری نظام کے خلاف آواز اٹھائی، باوجود اس کے کہ ان کی مراعات یافتہ پرورش ہوئی تھی۔ وہ مسلسل رجعت پسند اصول کا مقابلہ کرتی رہیں، وہ اس نظریے کے خلاف لڑائی کی کہ مسلم عورتیں گھریلو مقام میں محدود ہو جائے۔ انہوں نے مسلم عورتوں سے گزارش کی کہ وہ پردے کے سایہ کو ہٹا دیں اور معاشرہ میں اپنا حقیقی مقام حاصل کرے۔ اس کی سوانح عمری، پردہ سے پارلیمنٹ تک،ان کے تاریخی سفر کو ظاہر کرتا ہے، اور یہ واضح ثبوت ہے کہ وہ عورتوں کو متاثر کرنے کے لیے پرعزم تھی، جو معاشرے کے رکاوٹوں سے لڑ کر آگے بڑھی۔ آئین سازی کے اسمبلی میں، ان کے الفاظ درج ہیں”ریزرویشن ایک خود تباہ کن ہتھیار ہے جو اقلیتوں کو ہمیشہ کے لیے اکثریت سے جدا کر دیتا ہے۔” یہ ان کے اتحادی نظریہ اور سیکولر ہندوستان کو ظاہر کرتا ہے جہاں پر تمام اقوام بھروسے اور ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں سے درخواست کی کہ وہ علیحدگی پسند رجحانات کو ختم کریں اور شمولیتی سچی جمہوری ملک کی تشکیل میں فعال کردار ادا کریں۔ بیگم رسول کا ہندوستان کی آزادی میں شرکت اور ملک کی ترقی کے لیے سیاست سے کہیں اوپر ہے۔ وہ متنازعہ مسائل کے خلاف مضبوطی سے کھڑی رہتی تھیں، جیسا کہ اقلیت ریزرویشن کے خلاف، اور بڑے لیڈر کے ساتھ کندھے سے کندھے ملا کر رہیں جیسا کہ سردار پٹیل جنہوں نے متحدہ انتخاب کی وکالت کی۔ ان کا نظریہ مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کے خلاف انقلابی تھا، جیسا کہ انہوں نے بحث کی ہے کہ مسلمانوں کواچھی نیت اور اتحاد پر بھروسہ کرنا چاہیے، نہ کہ جدائی پر۔ ان کا انقلابی فیصلہ فرقہ وارانہ کشیدگی کے دوران
ظاہر کرتا ہے ان کا پختہ عزم ہندوستان کے اتحاد اور سالمیت کے لیے۔
بیگم رسول کی زندگی مسلم عورتوں کے لیے متاثر کا ایک ذریعہ ہے، جدید ہندوستان کے مشکلات کا احاطہ کرتے ہوئے۔ سیاست میں اس کی رہنمائی، عورتوں کے حقوق کی وکالت اور انڈین وومن ہاکی فیڈریشن کے صدر میں ان کا کردار لگ بھگ 20 سالوں کا، ان کی مختلف شرکت اور حصے کی مثال قائم کرتے ہیں۔ 2000 میں انہیں پدمہ بھوشن سے نوازا گیا جو ان کے عظیم ورثہ کی یاد دہانی کرتا ہےآج مسلم عورتوں کے لیے ان کی کہانی عمل کرنے کے لیے دعوت ہے۔ یہ انہیں گزارش کرتی ہیں کہ وہ عوامی زندگی میں شرکت کریں، معاشرے کے رکاوٹوں کے خلاف لڑیں،ان دقیانوسی تصورات کے خلاف مقابلہ کریں جو انہیں محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خواہ سیاست میں، تعلیم میں، کھیل میں یا معاشرہ کے کام میں، بیگم کی روح ہر عورت میں زندہ ہے جو خواب دیکھنے کی ہمت رکھتے ہیں اور اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
جیسا کہ ہندوستان ریپبلکڈے کا جشن منا رہا ہے، بیگم قدسیہ اعزاز رسول کے ورثہ کو دوبارہ یاد کرنا دونوں وقتی اور ضروری ہے۔ وہ ایک عورت کی طاقت کو پیش کرتی ہے کہ کیسے انہوں نے پختہ عزم کیا کچھ مختلف کرنے کے لیے۔ ایسی دنیا میں جہاں پر نمائندگی اور مساوات کے معاملات سے لڑ رہے ہوتے ہیں، ان کی کہانی شمولیتی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے اور مسلم عورتوں کی صلاحیت کو فروغ دیتی ہے کہ کیسے وہ اس ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ان کی زندگی مسلمان عورتوں کی نئی نسل کو متاثر کر سکتی ہیں، کہ وہ آگے بڑھیں، رکاوٹوں کو توڑ دیں، ہندوستان کی مستقبل کی تشکیل میں اپنی جگہ بنائیں۔ جیسا کہ انہوں نے لکھا ہے’’خاموش مسلم خواتین کو اپنی آواز تلاش کرنی چاہیے‘‘۔ایسا کر کے وہ صرف ان کے ورثہ کو عزت نہیں دیتے ہیں بلکہ ریپبلک کے ائیڈیل کو بھی وہ مدد کرتے ہیں جسے انہیں نے بنایا۔ ان کی کہانی امید کی علامت ہے، مسلم عورتوں کو گزارش کرتی ہیں کہ وہ اپنے آنچل کو پرچم میں بدل دیں اور اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کھڑے ہو جائیں۔

