کیا تلنگانہ کے مسلمان بھی صدفیصد ووٹنگ کے لئے تیار ہیں؟
حیدر آباد : 29؍ اپریل ( خصوصی رپورٹ)
لوک سبھا انتخاب 2024 کے دوسرے مرحلہ منعقدہ 26/اپریل کے دوران مرٹھواڑہ کے ووٹرس اور بطور خاص مسلم ووٹرس نے بڑے پیمانے پر اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے دوسروں کے لئے نظیر قائم کی۔
تفصیلات کے مطابق 26/اپریل کو حلقہ پارلیمان ناندیڑ کی نشست پر رائے دہی کے دوران پولنگ بوتھس پر ووٹرس (رائے دہندوں) کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔
بالخصوص مسلم مرد و خواتین، ضعیف حضرات و نوجوانوں نے شدید گرمی کے باوجود لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر بڑے ہی جوش و خروش کے ساتھ رائے دہی کے اپنے جمہوری حق کا استعمال کیا۔
ناندیڑ میں شدید گرمی کے باوجود بھی رائے دہندے، حق رائے دہی سے استفادہ کے لئے اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے۔
اس کے علاوہ مرٹھواڑہ کے پربھنی ، اور ہنگولی پارلیمانی حلقوں میں بھی جہاں پر کہ بڑی تعداد میں مسلم آبادی بستی ہے، ان مسلم علاقوں کے پولنگ مراکز میں بھی بڑی بڑی قطار میں رائے دہندے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے نظر آئے ۔
پچھلے پارلیمانی انتخابات کے بالمقابل اس مرتبہ ناندیڑ کے مسلم رائے دہی کے تناسب میں اضافہ پر جب مقامی میڈیا نمائندوں سے ربط پیدا کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ ووٹنگ سے 15 دن قبل ہی ناندیڑ حلقہ کی تمام مساجد میں حق رائے دہی کو لے کر خصوصی مہم چلائی گئی تھی۔
جمعہ کے موقع پر مساجد میں خصوصی خطابات، مصلیان کی ذہن سازی کے علاوہ گھر گھر پہنچ کر ملک کے موجودہ حالات اور حق رائے دہی کی اہمیت و افادیت پر تفصیلات بیان کی گئیں نیز ہر رائے دہندہ کو ووٹ کی اہمیت سے روشناس کروایا گیا۔
اس مہم میں جہاں علمائے دین نے بڑھ چڑھ کر تعاون کیا وہیں دانشور حضرات، مسلم اسکالرس اور بالخصوص برقعہ پوش خواتین نے اپنا اپنا کردار ادا کیا۔
منصوبہ بندی کے ذریعہ چلائی گئی مہم کا اثر اس وقت دیکھنے کو ملا جب شہر کے عمران کالونی میں واقع اقرا اسکول پولنگ بوتھ پر صد فیصد رائے دہی درج کی گئی۔
شہر کے صحافیوں نے مزید بتایا کہ ناندیڑ کے مسلمانوں نے عید کی طرح جشن مناتے ہوئے اپنے حق رائے دہی کا پر جوش طریقہ سے استعمال کیا اور اس کے لئے انھوں نے نہ ہی شدید دھوپ کی پرواہ کی اور نہ ہی لمبی لمبی قطاروں سے وہ مایوس ہوئے۔
رائے دہندوں کی بڑی تعداد میں پولنگ کے لئے ضلع انتظامیہ کی بارہا توجہ دہانی بھی رنگ لائی اور دور دراز مقامات پر ملازمت یا تعلیم کے حصول کے لئے روانہ ہونے والے نوجوان، اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کے لئے اس دن واپس آئے اور اس جمہوری جشن کا حصہ بنے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ تلنگانہ میں جہاں 13/مئی کو رائے دہی منعقد شدنی ہے اس میں رائے دہندے بالخصوص مسلم رائے دہندوں کی کتنی تعداد اپنے جمہوری حق سے استفادہ حاصل کرتی ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق موجودہ انتخابات فرقہ پرستی کے ماحول کے خاتمہ، ملک کے مستقبل اور ہماری آئندہ نسلوں کے مستقبل کے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں لہذا ایسے میں ہر ایک شہری کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرجوش طریقے سے خود بھی اس جمہوری جشن میں شامل ہوجائے اور دیگر کو بھی اس میں شامل کرنے کی سعی کرے۔

