بی جے پی ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کا نعرہ دینا بند کرے : سویندو ادھیکاری

نئی دہلی: 18/جولائی(ویب ڈیسک)

مغربی بنگال سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایم ایل اے اور اپوزیشن لیڈر سویندو ادھیکاری نے بدھ (17 جولائی) کو کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی کی جانب سے دیے گئے ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس’ نعرے کی کوئی ضرورت نہیں ہےاور پارٹی کو اپنا اقلیتی ونگ بھی تحلیل کر دینا چاہیے۔

انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، نندی گرام سیٹ سے ایم ایل اے ادھیکاری نے کولکاتہ میں لوک سبھا انتخابات کے بعد بنگال بی جے پی کی پہلی مجلس عاملہ  کی میٹنگ کے دوران کہا، ‘ہم ہندوؤں اور آئین کو بچائیں گے۔ میں نے قوم پرست مسلمانوں کی بات کی ہے اور آپ سب کہتے ہیں، ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس’۔ لیکن میں اسے اور اب نہیں کہوں گا۔ بلکہ اب ہم کہیں گے ،’ جو ہمارے ساتھ، ہم ان کے ساتھ ۔‘ سب کا ساتھ، سب کا وکاس بند کرو۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کو اقلیتی مورچےکی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

بتادیں کہ حال ہی میں ہوئے لوک سبھا انتخابات میں مغربی بنگال میں بی جے پی کی سیٹیں 2019  میں جیتی گئی 18 سیٹوں سے کم ہو کر  12 رہ گئی ہیں۔ اس مایوس کن نتیجے کے بعد ادھیکاری  بی جے پی لیڈروں کے ایک طبقےکے  نشانے پر تھے کیونکہ تقریباً 30 سیٹوں پر امیدواروں کے انتخاب میں ان کا اہم رول تھا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے  2014  میں ذات پات اور مذہب سے قطع نظر تمام ہندوستانیوں کی جامع اور ہمہ گیر  ترقی کے لیے ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس’ کا نعرہ دیا تھا۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق ، جب ادھیکاری کے تبصرے پر تنازعہ بڑھ گیا، تو انہوں نے وضاحت پیش  کی کہ ان کا ارادہ  دوسروں کے مذہب کی توہین کرنے کا نہیں تھا۔

انہوں نے کہا، ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس وزیر اعظم مودی کا نعرہ ہے اور یہ میرے کہنے سے نہیں بدلے گا… میرا مطلب یہ تھا کہ بنگال میں بی جے پی کو ان لوگوں کے ساتھ اتحاد کرنا چاہیے جو سیاسی طور پر ان کی  حمایت کرتے ہیں اور ہمیں ان لوگوں سے محفوظ فاصلہ رکھنا چاہیےجو ہمارے ساتھ نہیں آئیں گے۔‘

سویندو کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ووٹنگ پیٹرن کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ اقلیتی طبقہ مغربی بنگال کی  لوک سبھا کی 42 میں سے 30 سیٹیں جیتنے کے بی جے پی کے ہدف میں ایک بڑا رکاوٹ بن کر ابھرا۔