-
سوئم باپور اؤ کی بی جے پی سے کانگریس میں شامل ہونے کی تیاری
-
مسلم نوجوانوں کے سر قلم کردینے اور کرسچن پاسٹروں کے سینوں میں گولیاں اتاردینے جیسے نفرت انگیز بیانات کے بعد ، کیا رائے دہندے انھیں ووٹ دیں گے؟

عادل آباد: (اپنا وطن نیوز؍محمد عابد علی)
اپنے متنازعہ بیانات سے جھوٹی شہرت حاصل کرنے کے لئے مشہور بی جے پی کے رکن پارلیمان عادل آباد مسٹر سوئم باپو راؤ ان دنوں اپنا ـفرضی مکھوٹا تبدیل کرنے کی فراق میں دکھائی دے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست کو خیرآباد کہتے ہوئے کانگریس میں شمولیت کا من بناچکے ہیں۔ وہ آئندہ منعقد ہونے والے تلنگانہ اسمبلی انتخابات کے دوران حلقہ اسمبلی بوتھ سے انتخابات لڑنے کی تیاری کررہے ہیں۔
چند دنوں سے وہ بی جے پی پارٹی کے پروگراموں سے اپنے آپ کو دور رکھے ہوئے ہیں۔ حالیہ دنوں ریاستی صدر بی جے پی بنڈی سنجئے کے دورہ لکشٹی پیٹ اور اس کے بعد ایک مرکزی وزیر کے دورے عادل آباد کے موقع پر وہ ان دونوں ہی مواقعوں پردکھائی نہیں دئیے۔ خود رکن پارلیمان عادل آباد مسٹر سوئم باپو راؤ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہی پارٹی کے چند لیڈروں کی سیاسی سازشوں کا شکار ہیں جو کہ انھیں بی جے پی سے باہر کرنے کا جال بُن رہے ہیں۔
انھوں نے اس کے لئے سابق رکن پارلیمان عادل آباد راتھوڑ رمیش اور موجودہ صدر ضلع بی جے پی پائل شنکر کو ذمہ دار گردانتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ہی قائدین ان کے خلاف سازشوں میں ملوث ہیں۔
واضح ہوکہ 20؍ جون کو بی جے پی رکن پارلیمان سوئم باپو راؤ کے اس بیان نے قومی سطح پر بی جے پی کی فضیت کی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ انھوں نے ممبر آف پارلیمنٹ لوکل ایریا ڈیولپمنٹ فنڈ کا استعمال اپنے لڑکے کی شادی اور اپنی ذاتی مکان کی تعمیر کے لئے خرچ کئے ہیں۔ انھوں نے یہ بات عادل آباد میں منعقدہ بی جے پی کی مقامی سطح کی ایک میٹنگ میں کی تھی جس کے بعد انھیں حزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
بعد ازاں انھوں نے اس مسٗلہ پر صفائی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خلاف ان ہی کے پارٹی قائدین نے سیاسی سازش کی ہے تاکہ وہ رکن پارلیمان کا ٹکٹ حاصل کرسکیں۔ بالواسطہ انھوں نے سابق رکن پارلیمان راتھوڑ رمیش کو اس واقعہ کا ذمہ دار ٹہرایا۔
واضح ہوکہ سوئم باپو راؤ جو کہ سابق میں آدی واسی تنظیم تُڑم دبّا کے ریاستی صدر بھی رہ چکے ہیں، نے کئی بار مسلم اور کرسچن کمیونٹی کے بارے میں اشتعال انگیز بیانات دئیے ہیں جن میں 25؍جون 2019کے دن ضلع عادل آباد کے گادی گوڑہ منڈل میں دیا گیا بیان مشہور جس میں کہ انھوں نے کہا تھا کہ اگر مسلم نوجوان قبائیلی فرقہ کی لڑکیوں کے پیچھے جانا نہیں چھوڑیں گے، ایسی صورت میں ان کا سر قلم کردیا جائے گا۔
جس کے بعد ضلع پولیس نے کانگریس اقلیتی سیل کی شکایت پر ان کے خلاف 294B, 504, 506 دفعات کے تحت ان کے خلاف کریمنل کیس بھی درج کیا تھا۔
اسی طرح سوئم باپو راؤ نے حالیہ دنوں 29؍مئی 2023 کے دن بھی عادل آباد مستقر پر منعقدہ ایک جلسہ کے دوران متنازعہ بیان دیا تھا جس میں انھوں نے بالخصوص کرسچن پاسٹرس کے ضمن میں کہا تھا کہ اگر وہ قبائیلی افراد کے مذہب تبدیلی کے واقعات میں ملوث پائے جاتے ہیں تب ان کے سینوں میں گولی اتاردی جائے گی۔
ان کے اس متنازعہ بیان کی وجہ سے کرسچن کمیونٹی سخت غصہ میں ہے اور ان کے خلاف پولیس میں شکایت بھی درج کروائی گئی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اپنے ایسے ہی متنازعہ و نفرت انگیز بیانات کے لئے مشہور سوئم باپو راؤ دوسری پارٹی کا مکھوٹا پہنے ہوئے انتخابی میدان میں رائے دہندوں بالخصوص مسلم و کرسچن رائے دہندوں کے سامنے آتے ہیں تب انھیں یہی رائے دہندے قبول کرتے ہیں یا نہیں؟

