تمام طبقات کی یکساں ترقی بی آر ایس کا نصب العین
رائے دہندے جذباتی نعروں کے بجائے ریاست کی ہمہ گیر ترقی کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کریں
نرمل میں بی آر ایس پارٹی کا انتخابی جلسہ عام۔ کے سی آر کی شرکت
نرمل : 2/نومبر (اپنا وطن نیوز)
چیف منسٹر تلنگانہ و صدر بی آر ایس پارٹی مسٹر کے۔ چندر شیکھر راؤ نے آج حلقہ اسمبلی نرمل کا دورہ کرتے ہوئے انتخابی جلسہ عام کو مخاطب کیا۔
اس موقع پر انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے حق رائے دہی کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں، جذباتی نعروں کا شکار نہ ہوں بلکہ ریاست کی ہمہ گیر ترقی کو نظر میں رکھتے ہوئے قیمتی ووٹ استعمال کریں۔
انھوں نے انتخابی جلسہ کے دوران کہا کہ ریاست تلنگانہ ایک سیکولر ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ امن کا گہوارہ ہے، یہاں تمام مذاہب کے لوگ بھائی چارگی کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں اور وہ جب تک زندہ ہیں وہ تلنگانہ ریاست کو سیکولر ریاست ہی بنائے رکھیں گے۔
انھوں نے اردو اشعار کے ذریعہ رائے دہندوں کو اپنی جانب راغب کرتے ہوئے کہا کہ’’ اللہ کے گھر دیر ہے لیکن اندھیر نہیں‘‘، اسی فلسفہ پر چلتے ہوئے انھوں نے علحدہ ریاست تلنگانہ کی تحریک کا آغاز عمل میں لایا تھا اور بالآخر اس میں کامیابی بھی ملی۔
انھوں نے کہا کہ ۔۔۔۔
حیات لے کر چلو، کائنات لے کر چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کر چلو
کے مصداق ان کی حکومت نے ریاست میں تمام طبقات کی یکساں ترقی کے لئے اقدامات کئے ہیں۔ ریاست بھر میں 204 اقامتی مدارس و کالجس کا قیام عمل میں لاتے ہوئے اقلیتی طبقہ کے طلبا و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کئے گئے۔ان ہی مدارس سے فارغ طلبا NEET و دیگر مسابقتی امتحانات میں کامیابی حاصل کررہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان کا مقصد تمام کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھنا ہے لہذا وہ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بی آر ایس پارٹی امیدواران کے حق میں رائے دہی کریں۔
قبل ازیں کے سی آر نے بی آر ایس کے انتخابی منشور میں موجود نکات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت آنے پر وظائف کی رقم میں مرحلہ وار اضافہ کیا جائے گا۔ پکوان گیس سلنڈر کی قیمتوں میں کمی کی جائے گی۔ مستحق غریب خاندانوں کو علاج و معالجہ کے لئے 15 لاکھ روپیوں کا مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
انھوں نے نرمل ضلع میں انجنیرنگ کالج کے قیام کا بھی تیقن دیا۔
قبل ازیں ریاستی وزیر و بی آر ایس امیدوار حلقہ اسمبلی نرمل اندرا کرن ریڈی نے جلسہ عام کو مخاطب کیا۔ اس موقع پر بی آر ایس قائدین وینو گوپال چاری، بی۔جانسن نائک، انیل جادھو، ستیہ نارائنا گوڑ، نظیر احمد، مجلسی قائدین عظیم بن یحیی، رفیع احمد قریشی و دیگر موجود تھے۔

