تحریر : محمد صمیم ،نظام آباد
ریاست تلنگانہ کے اسمبلی انتخابات اس ماہ کی 30 /تاریخ کو منعقد ہونے والے ہیں۔ 3/ نومبر سے پرچہ نامزدگی کے ادخال کا آغاز ہوگیا۔ 10/نومبر پرچہ نامزدگی کے ادخال کی اخری تاریخ ہے۔
تلنگانہ کا انتخابی درجہ حرارت میں ہر گزرتے دن اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ برسراقتدار بی آر ایس کی جانب سے انتخابی شیڈول جاری کرنے سے تقریباً دو ماہ پہلے 21/ اگسٹ امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کردی گئی تھی۔
بی آر ایس نے دوسری سیاسی جماعتوں پر سبقت حاصل کرتے ہوئے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور سیاسی پنڈتوں کو بی آر ایس کے صدر کے چندر شیکھر رائو کی جانب سے انتخابات کی تاریخ کے اعلان سے قبل ہی اپنے پارٹی امیدواروں کے اعلان کو ایک سیاسی غلطی سمجھ رہے تھے۔
کیونکہ اس سے بعض بی آر ایس کے قائدین دوسری سیاسی جماعت کانگریس میں شامل ہوگئے جس میں دو ارکان اسمبلی و ارکان کونسل شامل ہیں۔ انتخابات کے شیڈول کا اعلان اور جیسے جیسے انتخابات قریب آتے جارہے ہیں بی آر ایس کی جانب سے امیدواروں کے جلد اعلان کے فوائد محسوس ہورہے ہیں۔ عملی طور پر اس سے بی آر ایس امیدوار کتنا فائدہ اٹھاتے ہیں وہ نتائج کے بعد واضح ہوجائے گا۔
تلنگانہ کےسیاسی حالات گذشتہ چھ ماہ کے بعد جس تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں اس کی نظیر سیاسی سطح پر بہت ہی کم دیکھنے کو ملے گی۔ مارچ اپریل تک تلنگانہ میں سیاسی بیانہ اس طرح کا بنایا جارہا تھا کہ تلنگانہ میں اب مقابلہ صرف دو جماعتوں میں ہوگا، برسراقتدار پارٹی بی آر ایس سے مقابلے کے لئے اگر کسی پارٹی میں دم خم ہے تو وہ صرف بی جے پی ہے اس کے علاوہ کسی دوسری سیاسی پارٹی اس قابل نہیں کہ وہ بی آر ایس کا مقابلہ کرسکے۔
اس بیانہ کو مقامی تلگو میڈیا بھی اگے بڑھا رہا تھا۔ تلنگانہ کے ضمنی اسمبلی انتخابات حضورآباد اور دوباکا سے بی جے پی نے کامیابی حاصل کی جبکہ یہ دونوں اسمبلی نشستیں بی آر ایس کی تھیں۔ اس کے بعد کومٹ ریڈی برادران سے ایک نے کانگریس سے استعفیٰ دیا ساتھ ہی اسمبلی نشست سے بھی استعفیٰ دیا بی جے پی میں شامل ہوگئے لیکن نلگنڈہ ضلع کے اس حلقہ اسمبلی سے بی آر ایس نے کامیابی حاصل کرلی۔
ان ضمنی اسمبلی انتخابات میں کانگریس کا مظاہرہ بہت ہی خراب تھا۔ کئی کانگریسی قائدین بی جے پی میں شامل ہو رہے تھے۔ کانگریس پارٹی کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ برسراقتدار پارٹی سے مقابلہ کرسکے۔ کانگریس نے تلگودیشم سے کانگریس میں شامل ہونے والے نوجوان فائر فائٹر قائد ریونت ریڈی کو تلنگانہ کی کمان سونپی۔
نوجوان قائد نے ریاستی وزیر اعلی کے علاوہ برسراقتدار پارٹی کے قائدین پر شدید تنقید کرتے رہے اور پارٹی کی موجودگی کا احساس دلاتے رہے تو دوسری طرف کیڈر میں جوش و جذبہ پیدا کرنے کی سعی و جہد میں مصروف ہوگئے۔دوسری طرف 10/مئی 2023ء کو پڑوسی ریاست کرناٹک کے اسمبلی انتخابات کا انعقاد اور 13/مئی کو انتخابی نتائج کے بعد تلنگانہ کے سیاسی حالات میں ڈرامائی تبدیلیاں واقع ہونا شروع ہوگئے۔
کانگریس قائدین کی جانب سے نیا سیاسی بیانہ تشکیل دینا شروع کردیا گیا۔ کرناٹک کا نتیجہ تلنگانہ میں دہرانے کی بات کی جانے لگی۔ بی ار یس کے 10 سالہ حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کیا جانے لگا۔ مئی سے سپٹمبر انے تک کانگریس نے تلنگانہ میں سیاسی بیانہ کی کامیابی یہاں تک تو ہوگئی کہ عوام میں اب بی جے پی دوسرے نمبر پر نہیں رہی بلکہ اب صاف محسوس ہو رہا ہے اور سیاسی حالات بھی واضح اشارے دے رہے ہیں کہ تلنگانہ کے انتخابات چند ایک مقام کو چھوڑ کر دو رخی انتخابات ہونگے اور راست مقابلہ بی آر یس اور کانگریس میں ہی ہوگا۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس پارٹی تلنگانہ میں برسراقتدار بی ار یس پارٹی کو اسمبلی انتخابات میں شکست دے کر اقتدار حاصل کر پائے گی؟ کیا تلنگانہ میں کانگریس پارٹی برسراقتدار بی ار یس پارٹی کے 10 سالہ اقتدار مخالف رجحان کو سمیٹ سکیں گی؟
متحدہ آندھراپردیش میں 1998ء کو وائی یس راج شیکھر ریڈی کے پردیش کانگریس صدر بننے کے بعد انہوں نے ریاستی کانگریس میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے اس وقت کے سینئر کانگریسی قائدین کو کنارے لگانے کا کام کیا تھا ساتھ ہی بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے عوامی قائدین کو بھی کنارے لگا دیا تھا یہاں تک کہ کانگریس کے اس وقت کا کوئی بھی لیڈر راج شیکھر ریڈی کے خلاف جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وہی کام اب موجودہ صدر پردیش کانگریس کر رہے ہیں۔ راج شیکھر ریڈی کو اس وقت زیادہ وقت تھا انہوں نے اس کام کو غیر محسوس انداز میں کیا اور ریڈی طبقہ کی سیاست کو عروج پر پہنچادیا تھا آج حالات اس سے برعکس ہیں۔
تلنگانہ کانگریس کے نوجوان پردیش قائد اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لئے کانگریس کے سینئر قائدین کو کنارے لگانے کا کام اپنے صدر بننے کے ساتھ ہی شروع کردیا تھا اس کے علاوہ تلنگانہ بی سی طبقہ کے قائدین کو بھی کنارے لگانے کا کام کیا گیا۔
موجودہ کانگریس پردیش قائد کی جانب سے سینئر و بی سی قائدین کو کنارے کرنے سے کہیں کانگریس کو انتخابات میں نقصان اٹھانا نہ پڑجائے اور اس کے اثرات بی سی طبقہ کے رائے دہندگان پر نہ پڑجائے جس سے بی سی طبقہ کانگریس سے دور ہو جائے ۔
نوٹ: اپنا وطن نیوز پورٹل کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا اپنا وطن نیوز پورٹل کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

