تلنگانہ اسمبلی انتخابات ۔ بی جے پی کے لئے ۔۔۔۔؟

محمد صمیم ۔ نظام آباد


تلنگانہ اسمبلی کے انتخابات جیسے جیسے قریب آرہے ہیں ریاست کا سیاسی منظر نامہ بھی واضح ہوتا جا رہا ہے۔ قبل ازیں اس طرح کا ماحول بنایا گیا تھا کہ تلنگانہ میں انتخابات بی جے پی اور بی آر ایس میں ہے لیکن کرناٹک کے اسمبلی انتخابات کے بعد صورتحال میں تبدیلی آگئی اور اب مقابلہ راست بی جے پی اور بی آر یس میں نہیں رہا بلکہ کانگریس پارٹی بی آر ایس کے مدمقابل ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ اور اس دعویٰ سے رائے دہندگان کو متاثر کر نے کی کوشش کی جارہی ہے۔

کانگریس کے اس دعویٰ سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ مسلمان یا مسلم قائدین کی ایک تعداد ضرور متاثر ہوئی ہوگی۔ گذشتہ چند ایام کی سرگرمیوں سے پتہ چل رہا ہے کہ کون متاثر ہوئے ہیں۔ اور کون متاثر نہیں ہوئے ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرگرمیاں یہ ظاہر کر رہی ہے کہ بی جے پی تلنگانہ میں ایک سیاسی طاقت و قوت ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر چہ کہ بعض سیاسی پنڈتوں و تجزیہ نگاروں کی جانب سے اس بات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ تلنگانہ میں اصل مقابلہ کانگریس و بی آر ایس میں ہے۔

لیکن وزیر اعظم کا تلنگانہ میں ایک سے زائد جلسہ عام سے خطاب کرنا علاوہ ازیں بھاجپا کے مرکزی قائدین کا تلنگانہ کا مستقل دورہ اور عوام کو بی جے پی سے قریب کر نے کی کوشش کرنا. ساتھ ہی ہندوتوا طاقتوں کی جانب سے اپنے کیڈر کو بی جے پی کے لئے متحرک کرنا اور عوام الناس کو بھاجپا سے قریب کرنے کی سعی و جہد کرنا یہ تمام سعی و جہد کیا صرف اسمبلی کے انتخابات کے لئے ہی کیا جارہا ہے یا اس کے علاوہ بھی بھاجپا کی قیادت کی نظر کسی اور طرف ہے۔

 

بھاجپا مرکزی قیادت یہ اچھی طرح جانتی ہے کہ بی جے پی تلنگانہ میں برسراقتدار بی آر ایس کو انتخابات میں چیلنج کرنے کے موقف میں نہیں ہے بلکہ وہ تلنگانہ میں حکومت سازی کے لئے درکار 60 اسمبلی حلقوں کی نصف کے نصف بھی نہیں جیت سکتی۔

موجودہ تلنگانہ کے 17 ارکان پارلیمان میں سے 4 ارکان پارلیمان بی جے پی کے ہیں۔119 ارکان اسمبلی میں سے 3 ارکان ہیں وہیں 40 ارکان کونسل میں ایک رکن کونسل ہے۔ اتنی قلیل تعداد کے ہوتے ہوئے بی جے پی اتنی زیادہ ہلچل کیوں مچارہی ہے؟ کیا پارٹی میں واقعی اتنا دم خم ہے کہ وہ تلنگانہ سے کچھ زیادہ نشستیں حاصل کر سکیں گی۔

قلیل تعداد میں ارکان اسمبلی و کونسل ہونے کے باوجود بھی بی جے پی اور ہندوتوا طاقتوں کا اس طرح متحرک ہونا کئی سیاسی پنڈتوں کو متحیر کر دیا وہیں کئی سیاسی تجزیہ نگار بھاجپا کی اس منصوبہ بندی کی کڑیوں کو جوڑ رہے ہیں اور بھاجپا پارٹی کے طریقہ کار سے مستقبل کی تلنگانہ اسمبلی میں بی جے پی کی حکمت عملی کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

تلنگانہ کے 2019ء کے انتخابات میں بی جے پی کا صرف ایک رکن اسمبلی ہی منتخب ہوا تھا اور اس کے بڑے قائدین کو بھی شکست ہوئی تھی۔ چھ ماہ کے بعد پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی نے غیر متوقع 4 پارلیمانی نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ ریاستی وزیر اعلیٰ کی دختر کو بھی بی جے پی امیدوار نے شکست فاش سے دوچار کیا تھا۔

پارلیمانی انتخابات کے بعد بی جے پی نے تلنگانہ میں جارحانہ رخ اختیار کیا ساتھ ہی سوشل انجینئرنگ کے مطابق بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے کریم نگر رکن پارلیمان بنڈی سنجے کو تلنگانہ کی صدارت سونپی۔ بنڈی سنجے نے بی جے پی کو عوام میں مقبول بنانے اور بی آر ایس حکومت کے خلاف مستقل سرگرم رہے۔

پارلیمانی انتخابات کے چند ماہ بعد منعقد ہونے والے بلدیاتی و کارپوریشن کے انتخابات میں بی جے پی نے ریاستی دارلحکومت حیدرآباد کے علاوہ شمالی تلنگانہ کے اضلاع میں بہترین مظاہرہ کیا اور بعض میں پہلا تو کئی بلدیہ و کارپوریشن میں دوسرا موقف حاصل کیا۔

بالخصوص شمالی تلنگانہ کے اضلاع کے بلدیات و کارپوریشن میں بی جے پی کا موقف کافی اچھا رہا۔ وہاں کانگریس کمزور ہوگئی۔ کانگریس کے کئی قائدین بی جے پی میں شامل ہوگئے جس سے کانگریس کو کیڈر کی کمی کا سامنا کرناپڑ رہا ہے۔ بی جے پی شمالی تلنگانہ میں بہتر پوزیشن میں آگئی ہے۔

اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کا اصل ہدف شمالی تلنگانہ کے اضلاع سے اسمبلی میں اپنا کھاتا کھولنا ہے۔ تاکہ مُستقبل بعید میں بی جے پی کی پوزیشن بہتر ہو اور حکومت سازی کے لئے زمین کو ہموار کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ 2024ء کے پارلیمانی انتخابات میں پارٹی کی پوزیشن مزید مضبوط کرنے کے لئے اسمبلی انتخابات کو سیمی فائنل سمجھ رہی ہے۔

 

بی جے پی حکمت عملی یہ ہے کہ شمالی تلنگانہ کے شہری اسمبلی حلقہ جات کے علاوہ عظیم تر حیدرآباد کے اسمبلی حلقہ جات اور محبوب نگر ضلع کے بعض اسمبلی حلقوں پر پارٹی 12 تا 15 اسمبلی حلقوں سے کامیاب ہو۔ اس کے لئے بی جے پی کی جانب سے مکمل جدوجہد کی جارہی ہے۔ کانگریس پارٹی کی جانب سے بی سی طبقہ کو پارٹی کی جانب سے کم ٹکٹ دیئے جانے پر بی جے پی اس مسئلہ کا استحصال کرتے ہوئے بی سی اور او بی سی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی سعی کر رہی ہے اور بنڈی سنجے کو مستقبل کے قائد کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ لیکن انتخابات سے قبل بنڈی سنجے کو ریاستی صدارت سے ہٹا کر ریڈی طبقہ کے کشن ریڈی کو ریاستی صدارت حوالے کرنا بی جے پی کے لئے نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے۔

بی آر ایس پارٹی کی جانب سے اپنی دوسری معیاد میں مسلم طبقہ کو نہ صرف نظر انداز کیا گیا بلکہ مسلم مذہبی، سماجی ،ملی تنظیموں اور قائدین کو درکنار کر دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف مجلسی قیادت ہی کو اہمیت دی گئی۔ سیکریٹریٹ کی دو مساجد کے علاوہ حیدرآباد وشمشاباد میں مختلف مساجد کو شہید کیا گیا بعد میں شمشاباد کی مسجد کو احتجاج کرنے کے بعد تعمیر کرنے کی اسی جگہ اجازت دی گئی جبکہ سیکریٹریٹ کی مساجد اسی جگہ تعمیر ہوئی کوئی دعویٰ یقین کے ساتھ نہیں کرسکتا۔

آلیر انکائونٹر کی تحقیقات نہیں کی گئی، بے گناہ شہیدوں کا خون ناحق ابھی تک سوال کر رہا ہے کہ مسلم قیدی ملزمین کو کیوں قتل کیا گیا۔ اردو اکیڈمی کے کمپیوٹر سنٹرس بند ہیں، اس سے منسلک عارضی ملازمین کی تنخواہوں میں آج تک اضافہ نہیں کیا گیا۔

اقلیتی مالیتی کارپوریشن صرف نام کا ادارہ رہ گیا اس سے اقلیتوں کو فائدہ نہ کے برابر ہے۔ وقف اراضی کو سرکاری اراضی بتایا گیا۔ سپریم کورٹ میں حکومت نے وقف بورڈ کے خلاف کیس جیت لیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں وقف بورڈ ریاستی حکومت کے خلاف کیس کا دفاع کرہی نہیں سکتی۔

ریاست میں 12 سے 13 فیصد مسلم آبادی رہنے کے باوجود اقلیتی بہبود کا وزیر غیر مسلم ہے اس سے زیادہ مسلم طبقہ کی سیاسی بے وزنی اور کیا ہوگی۔ مختلف مواقع پر مرکزی بھاچپا حکومت کی تائید کی گئی۔ تین طلاق کے مسودہ پر راجیہ سبھا میں رائے دہی کے موقع پر بی آر ایس نے واک آوٹ کیا جس کی وجہ سے تین طلاق کا غلط قانون پاس ہوگیا۔

کونسل میں سوائے محمود علی کے بی آر ایس نے کسی بھی دوسرےمسلم قائد کو نامزد نہیں کیا۔ راجیہ سبھا میں بھی کوئی ایک بھی مسلم قائد کو نامزد نہیں کیا گیا ۔ کیا بی آر ایس میں کوئی دوسرا مسلم قائد نہیں ہے۔

کیا بی آر ایس کو مسلم طبقہ کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اس مسلم طبقہ کے امیدوار اسمبلی و پارلیمان میں منتخب نہیں ہوسکتے تب کیا انہیں کونسل و راجیہ سبھا سے منتخب نہیں کیا جاسکتا تھا۔یہ اور اس طرح کے دیگر مسائل سے مسلم طبقہ بی آر ایس اور کے سی آر سے ناراض ہے۔

 

کانگریس کرناٹک کی جیت کے بعد مسلم طبقہ کے ووٹ حاصل کرنے کے ضمن میں پر امید ہے اور پارٹی قیادت کو یقین ہے کہ کرناٹک کی طرح یہاں کے مسلمان بھی یک طرفہ کانگریس کے حق میں رائے دہی کریں گے اور کانگریس پارٹی تلنگانہ میں بھی برسراقتدار آئے گی۔

لیکن مجلس اور یونائٹڈ مسلم فورم کی بی آر ایس کی تائید سے مسلم رائے دہی کے ایک طرفہ ہونے کے امکانات مکمل ختم ہوگئے کیونکہ مجلس اور یونائٹڈ مسلم فورم کے مشائخ حضرات کا عوام پر اثر ہے جس کی وجہ سے مسلم رائے دہی کی ایک سے زائد پارٹیوں میں تقسیم لازمی ہے۔

تلنگانہ میں بی آر ایس اور کانگریس دونوں بھی سیکولر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ بی جے پی شمالی تلنگانہ کے علاوہ عظیم تر حیدرآباد کے اسمبلی حلقوں میں مسلم رائے دہی کی اسی تقسیم کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے