بی جے پی نے لوک سبھا انتخابات کے لئے 72 امیدواروں پر مشتمل دوسری فہرست جاری کی

تلنگانہ کے 6 امیدوار بھی شامل،

حلقہ پارلیمان عادل آباد سے سابق ریاستی وزیر جی۔نگیش کو ٹکٹ

نئی دہلی: 14؍ مارچ (ایجنسیز)
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے چہارشنبہ کو لوک سبھا انتخابات کے لیے اپنے مزید 72 امید واروں کا اعلان کیا۔
پارٹی کی سنٹرل الیکشن کمیٹی نے گزشتہ پیر کی رات ہونے والے اپنے اجلاس میں ان ناموں کی منظوری دی تھی۔
پارٹی کے جنرل سکریٹری ارون سنگھ نے آج یہاں یہ فہرست جاری کی۔
اس فہرست میں 10 ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے کی 72 نشستوں کے لیے امیدواروں کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان میں 15 خواتین امیدوار بھی شامل ہیں۔
جاری کی گئی دوسری فہرست میں ریاست تلنگانہ سے 6 امیدواران بھی شامل ہیں۔
حلقہ پارلیمان میدک سے رگھونندن راؤ، محبوب نگر سے ڈی کے ارونا، نلگنڈہ سے سیدی ریڈی، عادل آباد سے جی۔نگیش، پداپلی سے جی۔ سرینواس اور محبوب آباد سے سیتارام نائک کو بی جے پی نے اپنا امیدوار بنایا ہے۔
عادل آباد حلقہ پارلیمان سے سابق ریاستی وزیر جی۔نگیش کو ٹکٹ دئیے جانے پر مقامی بی جے پی قائدین میں اختلافات دیکھے جارہے ہیں۔
نگیش ضلع عادل آباد کے حلقہ اسمبلی بوتھ کے سابق رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔ تلگو دیشم حکومت میں وہ ریاستی وزیر کے عہدہ پر فائز تھے، بعد ازاں انھوں نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی اور بحیثیت رکن پارلیمان عادل آباد منتخب ہوئے تھے۔
تاہم 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں انھیں شکست سے دوچار ہونا پڑا ۔
ایک ہفتہ قبل ہی نگیش نے بی آر ایس سے مستعفی ہوکر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی جس کے بعد انھیں ٹکٹ بھی فراہم کردیا گیا۔
موجودہ بی جے پی رکن پارلیمان سوئم باپوراؤ کو بی جے پی نے دوبارہ ٹکٹ کی فراہمی سے انکار کردیا جس کے بعد مانا جارہا ہے کہ وہ بہت جلد کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔
عادل آباد لوک سبھا کی نشست پر کامیابی، کسی بھی بی جے پی امیدوار کے لئے آسان سمجھی جارہی تھی اس لئے اس پارٹی سے ٹکٹ کے حصول کے لئے کئی نئے اور پُرانے سیاسی قائدین ٹکٹ کے حصول میں کوشاں تھے۔
تاہم دیگر پارٹی سے بی جے پی میں شمولیت کے ساتھ ہی ٹکٹ کی فراہمی نے بی جے پی کے نظریاتی قائدین میں مایوسی کی کیفیت پیدا کردی ہے۔ کئی قائدین پارٹی کے اس فیصلہ کی مخالفت کررہے ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ بی جے پی بھی موقع پرست سیاسی قائدین کو پارٹی امیدوار بنارہی ہے جبکہ سالہا سال سے پارٹی کی خدمات انجام دینے والے قائدین کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔