عادل آباد : 13 ؍مئی ( محمد عابد علی )
حلقہ پارلیمان عادل آباد پر آج منعقد ہوئی رائے دہی میں بی جے پی امیدوار جی۔نگیش اور کانگریس امیدوارہ آترم سوگنا کے مابین کانٹے کا مقابلہ دیکھا گیا جبکہ بی آر ایس امیدوار آترم سکو کافی پیچھے نظر آئے۔
حلقہ اسمبلی عادل آباد کے دیہی علاقوں جیند، بیلا، بھیم پور، تامسی منڈل جات کے علاوہ عادل آباد شہر کے اکثریتی طبقہ کے رائے دہندوں میں بی جے پی امیدوار کے حق میں خاموش لہر دیکھی گئی۔
ان منڈل جات کے سروے کے دوران جب رائے دہندوں سے انتخابات کے ضمن میں پوچھا گیا تب وہ مقامی امیدوار کے بجائے، دہلی میں مودی کو اقتدار پر لانے میں اپنی دلچسپی ظاہر کرتے نظر آٗے۔
اسی طرح کانگریس امیدوارہ کے حق میں بھی اکثریتی طبقہ کے کچھ رائے دہندوں نے رائے دہی کی تاہم یہ بی جے پی کے بالمقابل کم ہی دیکھی گئی۔
اقلیتی طبقہ کے رائے دہندوں نے کانگریس امیدوارہ کے حق میں یکطرفہ رائے دہی کی۔
چونکہ عادل آباد پارلیمانی حلقہ میں 7 اسمبلی حلقہ جات شامل ہیں لہذا ہر اسمبلی حلقہ میں رائے دہندوں کی ترجیح کا پتہ لگانا کافی مشکل ہے تاہم آج کی رائے دہی سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بی جے پی اور کانگریس امیدواران کے مابین کانٹے کا مقابلہ ہے۔
رائے شماری 4/جون کو منعقد ہوگی اور نتیجہ کا اعلان ہوگا۔
قبل ازیں حلقہ پارلیمان عادل آباد میں آج منعقدہ لوک سبھا انتخابات کا چند ایک واقعات کو چھوڑ کر پر امن اختتام عمل میں آیا۔
اس حلقہ میں جملہ 7 اسمبلی حلقہ جات (عادل آباد، بوتھ، نرمل، مدہول، خانہ پور، آصف آباد اور سرپور ) شامل ہیں جن میں آج رائے دہی منعقد کی گئی۔ جملہ 1650175 رائے دہندوں کے لئے 2200 پولنگ مراکز قائم کئے گئے تھے۔
صبح 7 بجے سے آغاز شدہ رائے دہی کے دوران حلقہ پارلیمان عادل آباد کے رائے دہندوں میں جوش و خروش دکھائی دیا۔ شام 5 بجے تک جملہ 69.81 فیصد رائے دہی درج کی گئی تاہم شام 6 بجے تک رائے دہی کے لئے وقت ہونے کے باعث رائے دہی کے قطعی فیصد کا کل بروز منگل اعلان کیا جاسکتا ہے۔
سال 2019 میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات کے موقع پر اس حلقہ پارلیمان سے 77.9 فیصد رائے دہی درج کی گئی تھی اور بتایا جارہا ہے کہ آج کی رائے دہی کا فیصد بھی اسی کے قریب ہوگا۔
اسی طرح آج منعقدہ رائے دہی کے دوران اقلیتی طبقہ کے رائے دہندوں کی بڑی تعداد حق رائے دہی سے استفادہ کرتے دیکھی گئی۔
عوام کے جمہوری حق کے استعمال اور صد فیصد رائے دہی کے لئے سابق متحدہ ضلع عادل آباد کی تمام دینی جماعتوں بالخصوص جماعت اسلامی ہند، جمعیت العلما، اہلحدیث کے علاوہ سول سوسائٹی سے وابستہ ذمہ داران و دیگر نے اس خصوص میں لگاتار کوششیں کی تھیں جس کا مثبت نتیجہ دیکھنے کو ملا۔
یہی نہیں بلکہ ضلع کلکٹرس و محکمہ پولیس کے عملہ نے بھی رائے دہندوں کو پولنگ مراکز تک لانے اور انھیں حق رائے دہی سے استفادہ کی ترغیب دینے کی ہر ممکن کوششیں کیں جس کے بھی مثبت نتائج دیکھے گئے۔

