نئی دہلی : 16/مئی ( پریس ریلیز )
حالیہ لوک سبھا انتخابات کے دوران یوپی کے کئی اضلاع میں پولیس کے ذریعہ پسماندہ طبقے کے لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا۔ کئی مقامات پر بوگس ووٹنگ کی بھی شکایت موصول ہوئی۔ جماعت اسلامی ہند نے الیکشن کمیشن سے اس مسٗلہ پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
جماعت اسلامی ہند (جے آئی ایچ) نے ہندوستان میں حالیہ لوک سبھا انتخابات کے دوران مسلمانوں اور پسماندہ طبقوں کےووٹروں کو نشانہ بنانے کے پریشان کن واقعات کی مذمت کی ہے۔ تنظیم نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے پُر زور مطالبہ کیا ہے کہ وہ مبینہ واقعات کی تحقیقات کرے۔
میڈیا کو دیئے گئے ایک بیان میں جماعت کے نائب صدر ملک معتصم خان نے کہا کہ اتر پردیش کے سنبھل ضلع میں، کم از کم چار مسلمانوں نے شکایت کی کہ ریاستی پولیس نے پولنگ بوتھ پر لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں سیکڑوں ووٹرز زخمی ہوئے۔
فرخ آباد لوک سبھا حلقہ کے علی گنج اسمبلی حلقہ کے ساتھ اونلا لوک سبھا حلقہ میں بہت سے اہل ووٹروں کو مبینہ طور پر ووٹ ڈالنے سے روک دیا گیا۔ مزید برآں، قنوج لوک سبھا حلقہ کے رسول آباد اسمبلی حلقہ میں بوگس ووٹنگ کی دیگر تشویشناک اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ملک معتصم خان نے مزید کہا کہ بے گناہ ووٹروں پر پولیس کی یہ کارروائی شہریوں کے انتخابی عمل میں آزادانہ طور پر حصہ لینے کے بنیادی جمہوری حق کو مجروح کرتی ہے۔ جمہوریت میں یہ ضروری ہے کہ ہر شہری خواہ وہ کسی پس منظر یا عقائد سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے اور اسے سہولت فراہم کی جانی چاہئے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرسکے۔
تاہم، مذکورہ بالا واقعات ایک ایسےتشویشناک رجحان کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں مسلمانوں اور دیگر پسماندہ کمیونٹیز کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جاتا ہے اور حق رائے دہی سے محروم کیا جاتا ہے۔
جماعت اسلامی ہند نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان واقعات کی مکمل تحقیقات کرے اور اس بات کو یقینی بنانے کیلئے فوری اصلاحی اقدامات کرے تاکہ آئندہ انتخابی مراحل میں ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو

