عادل آباد کانگریس قائدین شیخ خالد اور سید شاہد علی بھی تھے موجود
دہلی: 19/مئی (اپنا وطن نیوز)
شمال مشرقی دہلی سے کانگریس امیدوار کنہیا کمار کی انتخابی مہم عروج پر ہے۔ کانگریس نے بی جے پی امیدوارامنوج تیواری کے سامنے اپنے تیزطرار اور نوجوان لیڈر کنہیا کمار کو ٹکٹ دے کر زعفرانی پارٹی کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔
کنہیا کمار کی انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لئے تلنگانہ کی ریاستی وزیر سیتا اکا کی زیر نگرانی کانگریس قائدین کا ایک وفد شمال مشرقی دہلی میں قیام پزیر ہے۔

عادل آباد کانگریس قائدین شیخ خالد المعروف جانٹی، سید شاہد علی، نوین، ارباز اور دیاکر ریاستی وزیر کے ہمراہ شمال مشرقی دہلی کے مختلف علاقوں میں پیدل دورہ کرتے ہوئے رائے دہندوں سے ملاقات کررہے ہیں ۔
بالخصوص دہلی میں موجود تلگو رائے دہندوں کو مذکورہ قائدین راغب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
واضح ہو کہ اس لوک سبھا حلقے میں اترپردیش اور بہار سے تعلق رکھنے والے رائے دہندگان کی تعداد تقریباً ۲۶؍ فیصد ہے جو بھوجپوری بولتے ہیں۔ بی جے پی کو ایسالگ رہاتھا کہ منوج تیواری کی شکل میں ان کے پاس ایک ایسا لیڈر ہے جو پوروانچل کے اِن ووٹرس پر اپنا جادو چلا سکتا ہے لیکن کانگریس نے کنہیا کمار کو میدان میں اتار کر اس کی حکمت عملی خراب کردی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ کل تک اپنی کامیابی کا دعویٰ کرنے والے بھوجپوری اداکار منوج تیواری کی نیند حرام ہوگئی ہے۔

یہاں سے کنہیا کمار کی جیت کے امکانات اسلئے زیادہ روشن ہیں کہ اس انتخابی حلقے میں مسلم ووٹرس کا تناسب ۲۱؍ فیصد ہے جس میں کسی بھی طرح کی تقسیم کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔ جہاں تک پوروانچل کے ووٹرس کی بات ہے، اس میں دونوں لیڈروں کی حصہ داری برابر ہوسکتی ہے لیکن یہاں پر بھی کنہیا کما ر کا توازن تھوڑا اسلئے بھاری ہے کیونکہ جے این یو لیڈر اور سی پی آئی کے ایک لیڈر کے طورپر ان کا پس منظر مزدروں کی حمایت میں آواز بلند کرنے والے ایک لیڈر رہی ہے۔
دہلی کی تمام 7 پارلیمانی نشستوں پر 25/مئی کو رائے دہی ہوگی۔

