میری آخری سانس تک تلنگانہ کو سیکولر ریاست بنائے رکھوں گا
عادل آباد میں منعقدہ جلسہ عام سے کے۔چندر شیکھر راؤ کی مخاطبت
جوگورامنا کو کامیاب بنانے رائے دہندوں سے کی اپیل
عادل آباد : 16/نومبر (محمد عابد علی/اپنا وطن نیوز)
کانگریس اور بی جے پی کو ایک ہی سکے کے دو رُخ قرار دیتے ہوئے صدر بی آر ایس پارٹی مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جاریہ اسمبلی انتخابات میں حلقہ اسمبلی عادل آباد سے جوگورامنا کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں۔
مسٹر کے سی آر جو کہ آج عادل آباد مستقر کے ڈائیٹ گراؤنڈ میں منعقدہ بی آر ایس پارٹی کے انتخابی جلسہ عام میں شرکت کے لئے پہنچے تھے نے عوام کی کثیر تعداد کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ تلنگانہ ایک سیکولر ریاست ہے اور مستقبل میں بھی رہے گی۔ہم فرقہ پرست طاقتوں سے لڑتے رہیں گے۔
یہ ریاست مختلف مذاہب کے پھولوں کا ایک گلدستہ ہے اور یہاں تمام ہی مذاہب کے ماننے والے گنگا جمنی تہذیب پر عمل پیرا ہوتے ہوئے خوشیاں بانٹتے ہیں۔

انھوں نے بالخصوص مسلمانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ کانگریس کے 10 سالہ اقتدار میں محکمہ اقلیتی بہبود کے ذریعہ صرف 2 ہزار کروڑ روپئے ہی خرچ کئے گئے تھے تاہم علحدہ ریاست کی تشکیل اور بی آر ایس کی حکومت نے اپنے اقتدار کے 9 سالوں میں ہی اقلیتی بہبود پر 12 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے۔اور اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کے لئے اسکولس اور کالجس کا قیام عمل میں لایا گیا ۔
انھوں نے کہا کہ کانگریس نے اقلیتوں کو صرف اپنے ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا تھا جبکہ اس جماعت کے پاس اقلیتوں کی فلاح و بہبود کا کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں تھا۔
مسٹر کے سی آر نے مقامی رکن اسمبلی جوگورامنا کو عوامی قائد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک عام گھرانے سے تعلق رکھنے والے رامنا نے اپنے حلقہ اسمبلی کی ترقی کے لئے ہر ممکنہ کوشش کی اور ان کی بھاری اکثریت سے فتح کے بعد اس ضلع کی مزید ترقی ممکن ہے۔ انھوں نے بتایا کہ چنکا۔کورٹہ بیاریج کی تعمیر سے ضلع کی کئی ایکڑ اراضی کو سیراب کیا جاسکے گا۔

کے سی آر نے مرکز میں بی جے پی کی حکومت پر زبردست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو ووٹ دینا دراصل موریوں میں اپنے ووٹ کو ضائع کرنے کے مماثل ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے ہر موقع پر نو تشکیل شدہ ریاست تلنگانہ سے نا انصافی کی ہے۔ ملک بھر میں 157 میڈیکل کالج منظور ہوئے تاہم اس میں سے ایک بھی تلنگانہ کو نہیں دیا گیا اس کے علاوہ پارلیمنٹ سے پاس شدہ قانون ہے کہ ہر نئے ضلع میں مرکزی حکومت ایک جدید نودیا اسکول قائم کرے گی تاہم تلنگانہ کے اضلاع میں یہ مدارس نہیں کھولے گئے۔
اسی طرح سابق صدر کانگریس راہول گاندھی پر طنز کستے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ راہول گاندھی اپنے انتخابی جلسوں میں دھرانی پورٹل کو ختم کرنے کی بات کررہے ہیں جبکہ دھرانی پورٹل کے ذریعہ کسانوں کو بے شمار فوائد ہورہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دھرانی دراصل کسانوں کی اراضیات کے تحفظ کے لئے لایا گیا ریاستی حکومت کی ایک منفرد اسکیم ہے جس میں کسان بہ آسانی اپنی زرعی اراضیات کا رجسٹریشن، کسان بیمہ، کسان قرضہ جات کی معافی وغیرہ اسکیمات سے فیضیاب ہورہے ہیں۔
اس کے علاوہ دھرانی درمیانی افراد کی لوٹ کھسوٹ کا خاتمہ بھی ہے، اس کے استعمال کے ذریعہ کسان راست حکومتی اسکیمات اور رقمی فوائد سے استفادہ حاصل کررہے ہیں۔کسی کسان کی موت پر دھرانی کے ذریعہ ہی اندرون ہفتہ کسانوں کے اہل خانہ کے اکاؤنٹس میں کسان بیمہ کی رقم منتقل کی جارہی ہے۔
انھوں نے صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی اور سابق صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی کو کسان دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات دراصل کسانوں کی ترقی میں مزید رکاوٹ کا سبب بن رہے ہیں۔
کسانوں کو صرف 3 گھنٹے برقی سربراہی ، 10 ایچ پی موٹر کی تنصیب اور عوامی ٹیکس سے رعیتو بندھو رقومات کی ادائیگی والے بیانات دراصل کانگریس قائدین کی کسان دشمن پالیسی کو عیاں کرنے کے لئے کافی ہے ۔ کے سی آر نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ کانگریس کی ان غلط پالیسیوں کے خلاف اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔
قبل ازیں کے سی آر نے جلسہ گاہ میں موجود عوام سے استدعا کی کہ وہ جمہوری طور پر انھیں حاصل ووٹ جیسے ہتھیار کا صحیح استعمال کریں، عوامی نمائندوں سے زیادہ پارٹیوں کی ترقی کے ویزن اور عوامی اسکیمات کو ذہن میں رکھتے ہوئے حق رائے دہی سے استفادہ حاصل کریں۔
انھوں نے بتایا کہ بی آر ایس نے شادی مبارک، کلیان لکشمی اور ضرورتمندوں میں وظائف جیسی کئی اسکیمات سے عوامی فلاح و بہبودی کے کام کئے ہیں جن کی سابق میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔
کے سی آر نے اپنی مخاطبت میں کہا کہ آئیندہ عام انتخابات میں علاقائی جماعتوں کا دبدبہ ہوگا۔ کسی بھی قومی سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہوگی بلکہ علاقائی جماعتیں ہی حکومت بنائیں گی۔
جلسہ عام میں صدر نشین ضلع پریشد جناردھن راتھوڑ، سابق اسمبلی اسپیکر مدھوسدھن چاری، سابق مرکزی وزیر وینو گوپال چاری، ایم ایل سی دنڈے وٹھل، ڈی سی سی بینک چیرمین اڈی بھوجا ریڈی، لائبریری چیرمین آر منوہر، صدر نشین بلدیہ جوگو پرمیندر، نائب صدر نشین بلدیہ ظہیر رمضانی، صدر مجلس اتحاد المسلمین شیخ نظیر احمد کے علاوہ بی آر ایس پارٹی قائدین محمد یونس اکبانی، سید ساجد الدین، محمد اشرف جنرل سکریٹری، محمد ظہور الدین، محمد سلیم پاشاہ اقلیتی سیل، شہباز خان، وقار احمد، محمد تنویر ، اعجاز احمد و دیگر موجود تھے۔

