خصوصی رپورٹ:
وزیراعلی تلنگانہ اے۔ ریونت ریڈی پچھلے چند عرصہ میں ایک پر اعتماد اور قد آور عوامی قائد بن کر ابھرے ہیں۔
کانگریس پارٹی کو تلنگانہ میں اقتدار میں واپس لانے کیلئے ریونت ریڈی کی کوششوں کو نہ صرف پارٹی اعلی کمان بلکہ عوامی سطح پر بھی سراہا گیا اور عوام نے سابق حکومت کی عوام دشمن اور متکبرا نہ طرز حکومت کے سامنے کانگریس کو ایک متبادل کے طور پر دیکھا۔

کانگریس کو اس مقام پر لانے کیلئے تمام کیڈر اور ریاست میں پارٹی کے سینئر لیڈروں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر انہیں نوجوان قیاد ت کے ساتھ کام کرنے کیلئے آمادہ کیا گیا اور نتیجہ عوام کے سامنے ہے۔
اپنی تین ماہ کی سرکردگی اور سرگرمیوں کے ذریعہ وزیراعلی نے یہ بھی ثابت کردیا کہ وہ ایک اچھے منتظم بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے تین ماہ میں ریاستی سطح پر بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں انجام دیں اور سرکاری مشینری کو ایک سمت میں رواں کیا۔

لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر ریاست اور ملک بھر میں انتخابی سرگرمیاں جاری ہیں۔ تما م ہی پارٹیاں اپنی اپنی حکمت عملیوں کے ساتھ ملک بھر میں سرگرم ہیں۔ ملک بھر میں بی جے پی اور دیگر پارٹیاں بھی اپنی تشہیری مہم میں مصروف ہیں۔ ایسے میں کانگریس پارٹی کی مہم بھی زوروں پر ہے۔ وزیراعلی اے ریونت ریڈی پچھلے کچھ عرصہ سے پارٹی امیدواروں کے حق میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے ملکاجگیری‘ نظام آباد‘ عادل آباد اور چیوڑلہ میں پارٹی امیدواروں کے حق میں مہم چلائی۔
وزیراعلی کا زور بیان اور انداز بیان اس حد تک مقبول ہورہا ہے کہ نہ صرف ریاست بلکہ دیگر ریاستوں میں پارٹی امیدواروں کی انتخابی مہم کیلئے انہیں مدعو کیا جارہاہے۔ انہوں نے وایاناڈ میں‘ بنگلور میں اور دیگر مقامات پر کانگریس امیدواروں کیلئے مہم چلائی۔ اس موقع پر وزیراعلی کی میڈیا نمائندوں سے بات چیت اور عوامی جلسوں میں ان کا خطاب بڑی حد تک پسند کیا گیا۔ اقتدار پر آنے کے چند دنوں کے اندر ہی وزیراعلی عوامی جلسوں کے روح رواں بن گئے ہیں۔

تلنگانہ بھر میں انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جاری مہم‘ پروپگنڈہ اور حکومت کی ہرزہ سرائی کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے ان کے بیانیہ کو پوری طر ح پلٹنے میں زبردست کردار ادا کیا۔ اپوزیشن کی جانب سے کھڑے کئے گئے کسی بھی بیانیہ کا وزیراعلی نے حقائق کے ساتھ جواب دیتے ہوئے سوشیل میڈیا کی تمام تر کوششوں کو ناکام بنادیا۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کو کسی بھی عوامی مسئلہ پر بات کرنے کا موقع نہیں رہا اور وہ کانگریس قائدین اور وزیراعلی پر شخصی حملے کرنے پر مجبور نظر آتے ہیں۔
کیرالا‘ بنگلور کے بعد اب وزیر اعلی ریاست بھر میں مختلف پارلیمانی حلقو ں میں مصروف کار ہیں۔ وہ تمام پارٹی امیدواروں کی انتخابی مہم میں اہم عوامی جلسوں میں شرکت کررہے ہیں۔ سابق میں بھی جب کانگریس پارٹی اپوزیشن میں تھی‘ ریونت ریڈی کی شعلہ بیان تقاریر نے عوام کو ان کی جانب راغب کیا تھا اور سابق حکومت کو عدم تحفظ کا شکار بھی بنا دیا تھا۔

میڈیا اور ذرائع نشریات پر کڑے پہرے کے باوجود عوام نے ریونت ریڈی کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا تھا۔ مختلف عوامی جلسوں میں وزیرااعلی کی جانب سے اٹھائے جانے والے مدعے عوام کو سوچنے پر مجبور کررہے ہیں۔ انہوں نے بیڑہ اٹھایا ہے کہ وہ ریاست کے منجملہ 17نشستوں میں سے 14یا اس سے زیادہ پر کانگریس امید واروں کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے مختلف رکیک حملوں اور چیلنجوں کے باوجود وزیراعلی کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی اور وہ ابھی بھی عوامی رائے پر حاوی ہی نظر آتے ہیں۔

