اقتدار کے حصول سے قبل ہی ریونت ریڈی لوٹ مار میں مصروف

حلقہ اسمبلی عادل آباد میں کانگریس سے مستعفی قائدین کی پریس کانفرنس

آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے باغی گروپ کا اعلان

عادل آباد : 9/نومبر (اپنا وطن نیوز)

ضلع کانگریس کمیٹی میں اندرونی خلفشار کے بعد قائدین کی ایکدوسرے کے خلاف بیان بازیاں عروج پر ہیں۔ سابق صدر ضلع کانگریس کمیٹی مسٹر ساجد خان ، سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی گنڈرت سجاتا اور سابق مارکٹ کمیٹی چیرمین سنجیو ریڈی کی پارٹی سے بغاوت کے بعد کانگریسی امیدوار حلقہ اسمبلی عادل آباد مسٹر کندی سرینواس ریڈی کی مشکلات میں مزید اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

حالیہ دنوں ہی کانگریس پارٹی سے مستعفی ہونے والے قائدین ساجد خان، گنڈرت سجاتا اور سنجیو ریڈی نے اپنے حامیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کو مخاطب کیا اور صدر پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر ریونت ریڈی و کندی سرینواس پر زبردست تنقید بھی کی۔

 

ساجد خان نے کہا کہ حلقہ اسمبلی عادل آباد میں کانگریس نے ایسے شخص کو اپنا پارٹی امیدوار بنایا ہے جو کہ آر ایس ایس ذہنیت کا حامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ حلقہ اسمبلی عادل آباد سے کانگریس امیدوار کندی سرینواس ریڈی کو ٹکٹ کی فراہمی دراصل ریونت ریڈی کی جانب سے فروخت کردہ ٹکٹ ہے جس کے خلاف اصل کانگریس کے سینئر قائدین نے صدائے احتجاج بلند کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حلقہ اسمبلی عادل آباد میں مقابلہ اصل کانگریس اور آر ایس ایس کانگریس کے امیدواران کے درمیان ہے۔ انھوں نے کہا کہ اصل کانگریس کی جانب سے سابق ریاستی وزیر آنجہانی رامچندر ریڈی کے بھانجے سنجیو ریڈی بحیثیت آزاد امیدوار مقابلہ کریں گے اور انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ دوبارہ سونیا گاندھی کی کے تعاون سے کانگریس میں شمولیت اختیار کریں گے۔

 

انھوں نے کہا کہ مقامی طور پر کندی سرینواس ریڈی کو ٹکٹ دے کر کانگریس اور بالخصوص ریونت ریڈی نے بہت بڑی غلطی کی ہے، ایک ایسا امریکہ سے آیا ہوا شخص جو کہ حالیہ مہینوں میں ہی بی جے پی کو چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہوا تھا اور جو سیاسی داؤ پیچ سے نابلد ہے اسے ریونت ریڈی نے کروڑوں روپیوں کے عوض ٹکٹ فروخت کردیا، یہ دراصل سالہا سال سے کانگریس کی خدمت کررہے قائدین کی توہین ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت جبکہ ضلع عادل آباد میں کانگریس صفحہ ہستی سے مٹ چکی تھی اور جس کا جھنڈا اٹھاکر کوئی چلنے والا نہیں تھا ایسے میں انھوں نے سابق ریاستی وزیر آنجہانی رامچندر ریڈی کے مشورہ اور تعاون سے کانگریس کو بلندیوں پر پہنچادیا تاہم ٹکٹ کی فراہمی میں ان سے غداری کی گئی۔

خان نے مزید الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ریونت ریڈی تلنگانہ میں اپنے حامیوں کی ایک علحدہ کانگریس پارٹی کی تشکیل عمل میں لارہے ہیں جو کہ راہول گاندھی کے خوابوں کی کانگریس سے یکسر مختلف ہے۔راہول گاندھی جو کہ فسطائی طاقتوں اور بالخصوص آر ایس ایس کے نظریات سے مکمل اختلاف رکھتے ہیں تاہم اس کے برعکس ریونت ریڈی اپنی آر ایس ایس کانگریس کی تشکیل میں لگے ہوئے ہیں ۔

 

 

انھوں نے عادل آباد میں منعقدہ پروگرام کے دوران ریونت ریڈی کے اس بیان کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ سابق ریاستی وزیر آنجہانی رامچندر ریڈی کی سفارش پر ہی کندی سرینواس ریڈی کو پارٹی نے ٹکٹ فراہم کیا ہے۔ ساجد خان نے کہا کہ عادل آباد کانگریس کے قد آور قائد آنجہانی رامچندر ریڈی دراصل مقامی کانگریسی سینئر قائدین ساجد خان، گنڈرت سجاتا اور سنجیوریڈی میں سے کسی ایک کو ٹکٹ کی فراہمی کے طرفدار تھے ۔

سابق سکریٹری پردیش کانگریس کمیٹی گنڈرت سجاتا نے اپنے بیان میں کہا کہ پارٹی کے لئے خون پسینہ بہانے والے اصل مقامی قائدین کو درکنار کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے پیراشوٹ لیڈر کو ٹکٹ فروخت کردیا جس کے خلاف مقامی عوام میں زبردست ناراضگی پائی جاتی ہے۔

انھوں نے ریونت ریڈی پر الزام عائد کیا کہ وہ ریاست میں کانگریس پارٹی کی حکومت قائم ہونے سے قبل ہی پارٹی ٹکٹ فروخت کرتے ہوئے لوٹ مار انجام دے رہے ہیں۔

اس موقع پر سنجیو ریڈی نے کہا کہ وہ بحیثیت آزاد امیدوار انتخابی میدان میں اتریں گے اور انھیں یقین ہے کہ لو گ آنجہانی رامچندر ریڈی کے جانشین کے طور پر انھیں قبول کریں گے۔

پریس کانفرنس میں سابق کونسلر بھارگو سنجیو، وسیم، افسر و دیگر موجود تھے۔


اشتہار