چیف وہپ حکومت تلنگانہ داسیم ونے بھاسکرکے ہاتھوں اقلیتی طبقہ کے نوجوانوں میں ایک لاکھ روپئے امدادی چیکس کی تقسیم
ہنمکنڈہ : 10/اکتوبر (اپنا وطن نیوز)
چیف وہپ حکومت تلنگانہ داسیم ونے بھاسکر نے ریاستی وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کی زبردست تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ غریبوں کے لئے مسیحا ہیں۔وہ آج بی سی اسٹڈی سرکل میں منعقدہ ایک پروگرام کو مخاطب کررہے تھے۔
اس موقع پرانھوں نے بی سی بندھو اسکیم کے تحت 250 بی سی طبقہ کے نوجوانوں میں جبکہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے تحت 80اقلیتی بیروزگار نوجوانوں میں ایک لاکھ روپئے مالیتی امدادی چیکس کی تقسیم عمل میں لائی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ تلنگانہ حکومت غریب عوام کی طرف داری کرتی ہے۔ اور یہ حکومت تمام طبقات کی یکساں فلاح و بہبود کی پابند عہد ہے۔
انہوں نے سابقہ حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اُن حکومتوں کے وزرائے اعلیٰ نے کبھی بھی غریب عوام کی فلاح وبہبود کے ٹھوس اقدامات نہیں کئے جبکہ بی آر ایس حکومت نے اقتدار کے حصول کے بعد تمام طبقات کے ساتھ انصاف کیا گیا۔
آج گھر بیٹھے فلاحی اسکیموں کے ثمرات غریب عوام کی دہلیز تک پہنچ رہے ہیں جس کے لئے کے سی آر کی دور اندیشی شامل ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سابق میں لوگ 200 روپئے پنشن کے حصول کے لیے کئی کلو میٹر پیدل چل کر اور لائنوں میں کھڑے ہوکر جدوجہد کرتے تھے تاہم بی آر ایس حکومت کے دور اقتدار میں مستحق افراد کو 2000 روپئے راست پنشن دی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت واحد حکومت ہے جو معذوروں، بیواؤں، بیڑی کارکنوں، ہینڈلوم ورکرس اور پتھر تراش لوگوں کو پنشن فراہم کررہی ہے۔ جبکہ بی جے پی یا کانگریس دور اقتدار والی کسی بھی ریاست میں 2000 پنشن نہیں ہے۔
اسی طرح عوام کے لئے کلیانہ لکشمی، شادی مبارک، دلت بندھو، بی سی بندھو، اقلیتی بندھو وغیرہ اسکیمات اور فلاحی پروگرام لانے کا سہرا سی ایم کے سی آر کو جاتا ہے۔
زراعت کے میدان میں سی ایم کے سی آر کی قیادت میں آبپاشی کے کئی پراجیکٹس بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کسانوں کی فلاح و بہبود کے مختلف پروگرام جیسے ریتھو بندھو، ریتھو بیما، زراعت کے لیے 24 گھنٹے مفت بجلی، زرعی افسران کی تقرری شروع کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ آنے کے بعد ہی مشترکہ ورنگل ضلع کی ترقی ہوئی۔ 9 سال کے عرصے میں شہر بھر میں ہزاروں کروڑ کے فنڈز سے سی سی سڑکیں، نالے اور کئی انفراسٹرکچر والی عمارتیں تعمیر کی گئی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ شہر کے تمام طبقات کے لیے دستیاب ہیں اور ان کے ساتھ ہیں۔
بعد ازاں مستحقین میں چیکس تقسیم کئے گئے۔

