حیدر آباد: 29؍ اپریل (ایجنسیز)
وزیر اعلی تلنگانہ ریونت ریڈی نے واضح کیا ہے کہ لوک سبھا انتخابات ، ان کی حکمرانی پر ریفرنڈم ہیں۔
انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ریاست کی 17 لوک سبھانشستوں میں سے کانگریس 14 پر کامیابی کا جھنڈا لہرائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان مقابلہ ہے اور ریاست کی اصل اپوزیشن جماعت بی آرایس کو ووٹ حاصل نہیں ہوں گے ۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایک خصوصی کارپوریشن قائم کرتے ہوئے کسانوں کے زرعی قرضوں کو معاف کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے اور تمام ضمانتوں پر عمل کیا جائے گا۔
وزیر اعلی نے ایک خانگی تلگو نیوز چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگر بی جے پی دوبارہ مرکز میں بر سر اقتدار آتی ہے تو وہ یقینی طور پر ریزرویشن کو منسوخ کر دے گی۔
وزیر اعلی نے کہا کہ آمدنی میں اضافہ کرنا اور غربیوں میں تقسیم کرنا یہ ہماری پالیسی ہے۔ ٹیکس چوری کرنے والوں پر کنٹرول اور نئی سرمایہ کاری لانے سے تلنگانہ کی آمدنی بڑھے گی۔
اگر سابق وزیر اعلی چندر شیکھر راو ضرورت سے زیادہ خرچ نہیں کرتے تو آج یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پیشر و حکومت نے عوامی دولت کو ضائع کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہزاروں کروڑ روپے کی رقم مرکز سے گرانٹ کی شکل میں ریاست کو ملے گی۔
مرکز کے فنڈز کو ہر حال میں حاصل کرنے کی محکمہ فینانس کو ہدایت دی گئی ہے۔ چندر شیکھر راو نے کبھی بھی مرکزی حکومت سے 15 ہزار کروڑ روپے نہیں لیے جو تمام ریاستوں کو مرکزی اسکیموں کے تحت آتے ہیں۔
ریونت ریڈی نے الزام لگایا کہ چند پارلیمانی حلقوں میں بی آر ایس پارٹی نے کمزورامید واروں کو میدان میں اتارا ہے تاکہ بی جے پی کی کامیابی کو آسان بنایا جاسکے ۔
انہوں نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ محبوب نگر ، چیوڈ لہ ، ملکاجگری ، بھو نگیر اور ظہیر آباد میں بی آرایس امیدواروں کا سیاسی پس منظر دیکھیں۔ ان حلقوں کے بی آرایس امید وار زیادہ مقبول نہیں ہیں اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بی آر ایس نے بی جے پی کو کامیاب بنانے ڈمی امیدوار کھڑا کئے ہیں۔
ان کا یہ الزام خود بی آر ایس کے رکن اسمبلی ملا ریڈی نے درست قرار دیا۔ حالیہ دنوں ملا ریڈی نے کہا تھا کہ ملکاجگری لوک سبھا حلقہ سے بی جے پی امید وارایٹالہ راجندر کامیاب ہونے والے ہیں۔ اس طرح لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کو نقصان پہنچانے کے لئے بی آر ایس اور بی جے پی نے ساز باز کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے بی آر ایس کے ارکان اسمبلی کو پارٹی میں شامل کرنے کے لئے فی الحال ایک دروازہ کھولا ہے ابھی تمام دروازے نہیں کھولے گئے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ فون ٹیا پنگ معاملے کی جانچ جاری ہے۔
فی الحال ریاست میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہے اس لئے وہ اس معاملے پر تبصرہ غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ جانچ کے دوران معاملے کی پیشرفت بتانے پر جانچ میں رکاوٹیں کھڑی ہوں گی۔ البتہ انتخابات کے بعد منعقد ہونے والے اسمبلی اجلاس میں وہ فون ٹیا پنگ معاملے کی رپورٹ پیش کریں گے۔

