اقلیتوں کی معاشی ،اقتصادی وتعلیمی ترقی کے لئے کانگریس کا میناریٹی ڈکلریشن جاری

اقلیتی بہبود کا بجٹ 4 ہزار کروڑ روپئے کرنے، امام و موذنین کے اعزازیہ کو ماہانہ 12 ہزار کرنے، خصوصی اردو ڈی ایس سی امتحان منعقد کرنے کا وعدہ

حیدر آباد : 9/نومبر (اپنا وطن نیوز)

تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے ریاست میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اقلیتوں کی معاشی و اقتصادی ترقی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ’’میناریٹی ڈکلریشن(انتخابی اعلامیہ)‘‘ جاری کیا گیا۔

اس خصوص میں حیدر آباد میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر ریونت ریڈی، سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید، چیر مین کل ہند کانگریس میناریٹی ڈپارٹمنٹ عمران پرتاپ گڑھی، صدر میناریٹی ڈکلریشن کمیٹی و سابق ریاستی وزیر محمد علی شبیر کے علاوہ کانگریس قائد محمد اظہر الدین و دیگر نے شرکت کی۔

 

اس موقع پر ریونت ریڈی نے اعلان کیا کہ ریاست تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے برسراقتدار آنے پر اقلیتی بجٹ میں اضافہ کیا جاکر اسے چار ہزار کروڑ روپئے کردیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ریاستی بجٹ میں بیروزگار اقلیتی طبقہ کے نوجوانوں و خواتین کے لئے علحدہ ایک ہزار کروڑ روپئے مختص کئے جائیں گے تاکہ انھیں قرضہ جات فراہم کرتے ہوئے روزگار سے مربوط کیا جاسکے۔

ڈکلریشن میں وعدہ کیا گیا کہ ریاست کے اردو میڈیم مدارس میں مخلوعہ اساتذہ کی جائیدادوں پر بھرتی کے لئے خصوصی اردو ڈی ایس سی منعقد کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ اقلیتی طبقہ کے نوجوانوں کے لئے عبدالکلام تحفہ تعلیم اسکیم کا بھی آغاز عمل میں لایا جائے گا۔ اس اسکیم کے تحت ایم۔فل و پی ایچ ڈی کی اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے والے اقلیتی طلبا کو پانچ لاکھ روپئے ، پوسٹ گریجویٹ کی تعلیم مکمل کرنے پر ایک لاکھ روپئے، گریجویشن کی تعلیم مکمل کرنے پر پچیس ہزار روپئے، انٹر میڈیٹ کی تعلیم مکمل کرنے پر پندرہ ہزار روپئے اور دسویں کی تعلیم مکمل کرنے پر دس ہزار روپیوں کی امداد منظور کی جائے گی تاکہ اقلیتی طبقہ کے طلبا اعلیٰ تعلیم کے حصول کی جانب راغب ہوسکیں۔

 

انھوں نے میناریٹی ڈکلریشن میں موجود مزید نکات کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے نو شادی شدہ جوڑوں کو 1 لاکھ 60 ہزار روپیوں کی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ اندرما انڈلو اسکیم کے تحت بے گھر اقلیتی طبقہ کے خاندانوں میں مکان کی تعمیر کے لئے اراضی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ 5 لاکھ روپیوں کی مالی مدد بھی کی جائے گی تاکہ وہ خود کا گھر تعمیر کرسکیں۔

مساجد کے امام و موذنین اور خادمین، گرجا گھروں کے پاسٹرس اور گردواروں کے خدمت گاروں کے لئے ماہانہ 10 تا 12 ہزار اعزازیہ فراہم کیا جائے گا۔

 

وقف بورڈ کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لئے سخت اقدامات کئے جائیں گے جن میں وقف ریکارڈس کا ڈیجٹلائزیشن، قبضہ شدہ وقف اراضیات کو واپس حاصل کرنا اور قانونی کاروائی شامل ہے۔ اس کے علاوہ مسلم و کرسچن قبرستانوں کے لئے اراضی کی منظوری بھی عمل میں لائی جائیگی۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ریاست میں کانگریس کے برسر اقتدار آنے کے اندرون 6 ماہ مختلف ذاتوں کی مردم شماری کروائی جائے گی اور ان کی آبادی کے حساب سے انھیں حاصل تحفظات کی حد میں اضافہ کیا جائے گا جس میں مسلم تحفظات بھی شامل رہیں گے۔


تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ میناریٹی ڈکلریشن۔