تلنگانہ میں کے سی آر اور دہلی میں مودی سرکار کو شکست دی جائے گی
مجلس اور بی آر ایس پارٹیاں بی جے پی کے اشاروں پر چلتی ہیں
عادل آباد میں راہول گاندھی کا جلسہ عام سے خطاب
کندی سرینواس ریڈی کو کامیاب بنانے کی راہول نے کی اپیل
عادل آباد : 25/نومبر (اپنا وطن نیوز)
تلنگانہ میں کے سی آر اور دہلی میں مودی کو شکست فاش سے دوچار کرنے کا عہد کرتے ہوئے سابق صدر کل ہند کانگریس کمیٹی و رکن پارلیمان ویاناڈ مسٹر راہول گاندھی نے کہا کہ میری اور مودی کی نظریاتی لڑائی کبھی ختم نہیں ہوگی۔
راہول گاندھی نے آج ضلع مستقر عادل آباد کے اندرا پریہ درشنی اسٹیڈیم میں مقامی کانگریسی امیدوار کندی سرینواس ریڈی کی تائید میں منعقدہ انتخابی جلسہ عام کو مخاطب کیا ۔
اس موقع پر انھوں نے کہا کہ مجلس، بی آر ایس اور بی جے پی جاریہ انتخابات میں ایکدوسرے کی مددگار پارٹیاں ہیں اور وہ کسی بھی طرح کانگریس کو ان انتخابات میں شکست دینے کی کوشش کررہی ہیں۔

مسٹر راہول گاندھی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’ مودی جی کے ہیں دو یار۔۔۔اویسی اور کے سی آر۔۔۔‘‘ جس پر حاضرین جلسہ کی جانب سے زبردست تالیوں کی گونج سنائی دی۔انھوں نے آگے کہا کہ جاریہ انتخابات میں بی جے پی اور مجلس دونوں ہی بی آر ایس کی مددگار پارٹیاں ہیں، اور ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ وہ کسی طرح کانگریس کو ہرائیں، اسی طرح مودی کا یہ بھی منصوبہ ہے کہ تلنگانہ میں بی آر ایس اور دہلی میں بی جے پی، اسی فلسفہ پر یہ تینوں پارٹیاں ایکدوسرے کی آپسی مدد کررہی ہیں۔
انھوں نے مجلس پر سخت الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ چاہے آسام ، گجرات، مہاراشٹرا یا راجستھان میں انتخابات ہوں، مجلس پارٹی بی جے پی سے پیسہ لے کر کانگریس کے خلاف اپنے امیدوار کھڑا کردیتی ہے تاکہ اس کے ذریعہ بی جے پی کو فائدہ پہنچ سکے۔
راہول نے کہا کہ اگر تلنگانہ میں بی آر ایس کو شکست دینے میں کانگریس کامیاب ہوتی ہے تب اس کے ذریعہ دہلی میں بی جے پی کو شکست دینے میں مدد ملے گی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ کے سی آر کی خواہش ہے کہ مودی ملک کے دوبارہ وزیر اعظم بنیں اور مودی کی یہ خواہش ہے کہ کے سی آر تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ بنیں، یہی وجہ ہے کہ کے سی آر کی بی آر ایس نے پارلیمنٹ میں بی جے پی کے سیاہ قوانین جن میں کسان بل، جی ایس ٹی بل، نوٹ بندی کی تائید کی تھی۔
کے سی آر کی مجبوری یہ ہے کہ ان کا ریموٹ کنٹرول مودی کے ہاتھوں میں ہے، اور اس ریموٹ کنٹرول کے بٹن ای ڈی، سی بی آئی اور انکم ٹیکس کے ذریعہ وہ کے سی آر کو اپنے اشاروں پر نچاتے ہیں۔
راہول گاندھی نے کہا کہ بی جے پی جو کہ چار ماہ قبل تک تلنگانہ میں چھاتی پھلا کر گھوما کرتی تھی کانگریس نے اس کی ہوا نکال دی ہے اور ان انتخابات میں کانگریس کی کامیابی کے بعد دہلی سے مودی کو اکھاڑ پھینکا جائے گا۔
ماضی میں ان کے ساتھ پیش آئے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ میری پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کی گئی، سرکاری بنگلہ چھینا گیا لیکن اس کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ میرا گھر کروڑوں غریب ہندوستانیوں کے دل میں بستا ہے اور میں ان کی آواز بن کر رہنا پسند کروں گا۔
LIVE: Shri @RahulGandhi addresses the public in Adilabad, Telangana. https://t.co/hozgmZpz1k
— Congress (@INCIndia) November 25, 2023
انھوں نے تلنگانہ میں عنقریب کانگریس کی عوامی حکومت کو قائم کرنے کے اپنے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ خواتین کو مفت بس سفر کی سہولت، 2500 روپیوں کی امداد، 700 روپیوں میں گیس سلنڈر کی فراہمی، کسانوں کی معاشی ترقی اور خودکشیوں کا خاتمہ، کسانوں کو فی ایکر 15 ہزار روپیوں کی امداد، 24 گھنٹے مفت برقی سربراہی، غریبوں کے لئے مکانات کی تعمیر کے لئے 5 لاکھ روپیوں کی امداد، ہر منڈل میں بین الاقوامی معیار کے سرکاری مدارس کا قیام کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
آخر میں انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حلقہ اسمبلی عادل آباد سے کانگریسی امیدوار کندی سرینواس ریڈی کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں ۔ انھوں نے اپنی تقریر کا اختتام ’’نفرت کے بازار میں محبت کی دکان‘‘ کے نعرے سے کیا۔

