عادل آباد کے مسلم حلقوں میں موضوع بحث
عادل آباد : 4/ڈسمبر (اپنا وطن نیوز)
حلقہ اسمبلی عادل آباد میں مسلم ووٹرس کی تعداد تقریبا 45 ہزار ہے اور ان ووٹرس کو اپنی جانب راغب کرنے کے لئے سیاسی جماعتیں ایڑی چوٹی کا زور لگاتی ہیں۔
اسمبلی انتخابات 2023 کے دوران بھی حلقہ اسمبلی عادل آباد کے مسلم رائے دہندوں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں کی جانب سے نت نئے طریقے اپنائے گئے۔
سابقہ انتخابات کی طرح اس انتخاب میں بھی مقامی مسلم تنظیموں نے کسی سیاسی جماعت کے امیدوار کی تائید کرنے کا فیصلہ کیا۔
شہر کے عام مسلم رائے دہندوں میں بعض مسلم تنظیموں کے ذمہ داران کے خلاف سخت ناراضگی تھی۔
ان میں یہ احساس تھا کہ چند ذمہ داران انتخابات کے موقع پر کسی سیاسی جماعت کے امیدوار کی تائید کے عوض ان سے بھاری رقومات کے نذرانے حاصل کرتے ہیں۔اسی احساس کے چلتے مسلم رائے دہندوں کی ایک چھوٹی تعداد ان کے فیصلوں کو ماننے کے بجائے ریاستی سطح پر مذہبی جماعتوں کی جانب سے کانگریس کے حق میں لئے گئے تائیدی فیصلہ کے ساتھ ہوگئیں۔
مقامی طور پر سیاسی لا شعوری کے حامل مسلم تنظیموں کے ذمہ داران نے بی آر ایس امیدوار جوگورامنا کو مسلمانوں کی تائید کا تحریری اعلان کردیا۔ اس سے قبل بی آر ایس امیدوار کو طلب کرتے ہوئے ملاقات کی گئی اور انھیں چند تحریری مطالبات بھی پیش کئے۔
بعد ازاں اس خصوص میں دستخط ثبت کرتے ہوئے تائیدی پیغام جاری کیا گیا جو کہ مسلم رائے دہندوں کو کسی حد تک متحد کرنے کا تو سبب بنا تاہم یہ بی جے پی امیدوار کی کامیابی کا بھی ایک بڑا سبب بن گیا۔
جیسے ہی بی آر ایس امیدوار کی تائید کا پیغام معہ دستخط واٹس اپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھیجا گیا اس کے اندرون ایک گھنٹہ ہی بی جے پی نے اس تحریری تائید نامہ کو اکثریتی طبقہ کے واٹس ایپ گروپس اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر پھیلانا شروع کردیا۔
انھوں نے اس تائید نامہ کو شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’جب مسلمان ووٹ بینک بن رہے ہیں تب ہندو کیوں ووٹ بینک نہ بنیں؟ ہم بھی متحد ہوکر بی جے پی کو جتائیں گے۔‘‘ پھر کچھ جذباتی مذہبی نعرے بھی لکھے گئے۔

اکثریتی طبقہ کے واٹس ایپ گروپس میں وائرل ہونے والا تائیدنامہ
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ جذباتی پیغام اکثریتی طبقہ کے رائے دہندوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کا کام کرگیا۔
اس تائیدی تحریرنامہ کا یہ بھی اثر ہوا کہ ایسے حکومت مخالف اکثریتی طبقہ کے رائے دہندگان جو کہ بی آر ایس حکومت کی تبدیلی اور کانگریس حکومت کے قیام کی آرزو لئے ہوئے تھے، وہ بھی اس تائید نامہ کو دیکھنے کے بعد بی جے پی کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔
انھیں لگنے لگا کہ مسلم رائے دہندے تو کانگریس کو ووٹ نہیں دیں گے لہذا کہیں بی آر ایس امیدوار ہی کامیاب نہ ہوجائے، وہ مجبورا دوسرے طاقتور امیدوار پائل شنکر (بی جے پی) کے ساتھ جا کھڑے ہوئے۔
شہر عادل آباد کے ایک سرکردہ بی جے پی قائد کے بموجب مسلم تنظیموں کی جانب سے جاری کیا گیا تائید نامہ اکثریتی طبقہ کے رائے دہندوں کو متحد کرنے کا بڑا سبب بنا۔ اسی طرح بی جے پی امیدوار پائل شنکر کی فتح کے بعد ایک اور قائد نے بعض اردو میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ ’’مسلمانوں نے ہی ہمارا آدھا کام کردیا‘‘۔
قبل ازیں بی آر ایس امیدوار جوگورامنا کے مسلسل اقتدار پر رہنے سے عادل آباد کے رائے دہندے ناراض تھے۔ اس کے علاوہ رائے دہندوں میں حکومت مخالف لہر بھی تھی۔ اکثریتی طبقہ کے رائے دہندے جب انھیں چھوڑ کر جارہے تھے تب ایسے میں مسلم تنظیموں کے ذمہ داران انھیں سہارا دے رہے تھے۔
نتائج کے بعد پتہ چلا کہ مسلم رائے دہندوں کی بڑی تعداد نے تو ان کے حق میں رائے دہی کی تاہم خود ان کے اپنے ہی انھیں ہاتھ دے بیٹھے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے بموجب بی آر ایس پارٹی کے کئی کونسلروں نے بی جے پی امیدوار کے حق میں کراس ووٹنگ کرادی۔ بی آر ایس کے کونسلرس اس بات سے خفا تھے کہ ایک سیاسی جماعت کے کونسلرس کو تو خطیر رقم دی گئی تاہم خود بی آر ایس کے رہتے ہوئے انھیں رقم جاری نہیں کی گئی۔
الغرض 2024 کے پارلیمانی انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ابھی سے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ورنہ پارلیمنٹ کی نشست بھی۔۔۔۔۔۔

