اپوزیشن جماعتوں کے گروپ کا نام UPA سے INDIA میں تبدیل

Opposition Party Meeting in Karnataka

اپوزیشن جماعتوں کا ’’انڈین نیشنل ڈیولپمنٹل انکلوسیو الائنس (INDIA)،

2024 میں مودی کی زیر قیادت این ڈی اے سے مقابلہ کرے گا

اپوزیشن جماعتوں کا بنگلور میں منعقدہ دوروزہ اجلاس کا اختتام۔26 پارٹیوں نے شرکت کی

 

بنگلور : 18 ؍ جولائی (اپنا وطن نیوز بیورو )

ملک کی 26 اپوزیشن جماعتوں کے دوسرے دور کے اجلاس کا آج کرناٹک میں اختتام ہوا۔  ان جماعتوں نے اپنے نئے اتحاد کا نام انڈیا (INDIA) یعنی’’انڈین نیشنل ڈیولپمنٹل انکلوزیو الائنس‘‘ رکھا۔ صدر کل ہند کانگریس کمیٹی مسٹڑ ملیکارجن کھرگے نے پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کی اگلی میٹنگ مہاراشٹرا کے ممبئی میں رکھی جائے گی جس کے تواریخ کا عنقریب اعلان کیا جائے گا۔

بی جے پی حکومت جمہوری نظام کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہے، وہ مرکزی ایجنسیوں کا غلط استعمال کررہی ہے۔

پارٹیوں میں اختلافات ہیں لیکن ہم نے بڑے دل سے اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک کے مفاد میں کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مسٹر کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد سے خوفزدہ ہیں اور وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوئی چھوٹی پارٹیوں کو این ڈی اے میں شامل کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں سے مقابلہ کی بات کررہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ مودی نے ملک کے بیشتر میڈیا اداروں پر قبضہ کرلیا ہے جس پر بھی آج کے اجلاس میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر اعلٰی مغربی بنگال ممتا بنرجی نے بی جے پی سے سوال کیا کہ آیا بی جے پی نئی تشکیل شدہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد سے چیالنج کے لئے تیار ہے؟ انھوں نے  کہا کہ مرکزی حکومت عوامی منتخبہ ریاستی حکومتوں کی خرید و فروخت کرنے کے کاموں میں لگی ہوئی ہے، اور یہ جماعت ملک کو فروخت کرنے کی سوداگری کررہی ہے۔

وزیر اعلیٰ دہلی مسٹر اروند کیجروال نے پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پھیلی ہوئی نفرت کو ختم کرنے کے خواب کے تلے آج ملک کی اپوزیشن جماعتوں نے ایک ساتھ آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

قائد کانگریس مسٹر راہول گاندھی نے پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری لڑائی  بی جے پی کی سونچ کے خلاف ہے۔ ملک کی آواز کو دبایا اور کچلا جارہا ہے، یہ ملک کی آواز کو بچانے کی لڑائی ہے۔ لڑائی این ڈی اے اور انڈیا کے مابین ہے اور عوام کو پتہ ہے کہ جب بھی انڈیا سے لڑائی کرتا ہے تب اس کی ہار ہوتی ہے۔

بعد ازاں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ملیکارجن کھرگے نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے مابین ہم آہنگی کے لئے 11 رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو ہمارے اتحادی جماعتوں کے کنوینر و مستقبل کے لائحہ عمل کو مرتب کریں گے۔

واضح ہو کہ سابق میں کانگریس کی زیر قیادت والی جماعتوں کے اتحاد کا نام ’’یو پی اے‘‘ تھا جسے اب تبدیل کرتے ہوئے ’’انڈیا‘‘ رکھا گیا ہے۔