پٹنہ : 06/جون(انٹر نیٹ ڈیسک)
بی جے پی کو اپنی تیسری معیاد میں سخت اتحاد کے امتحان کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کے اتحادی نتیش کمار کی جے ڈی (یو) نے کہا ہے کہ وہ فوج کے لئے اگنی ویر بھرتی اسکیم پر نظر ثانی کا مطالبہ کرے گی۔
جے ڈی (یو) لیڈر کے سی تیاگی نے کہا ’’اگنی ویر اسکیم پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اسکیم کی کافی مخالفت ہوئی اور اس کا اثر انتخابات میں بھی دیکھا گیا‘‘۔
مبصرین کا خیال ہے کہ بی جے پی اور بالخصوص وزیرِ اعظم نریندر مودی مرکز میں اقتدار کے باوجود بھی اپنی خواہش کے مطابق حکومت نہیں کر پائیں گے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومت کو دو حلیف جماعتوں ’تیلگو دیسم پارٹی‘ (ٹی ڈی پی) اور ’جنتا دل یونائٹڈ‘ (جے ڈی یو) کے رحم و کرم پر رہنا ہو گا۔
یاد رہے کہ ان دونوں پارٹیوں کو مجموعی طور پر 28 سیٹیں ملی ہیں۔ ٹی ڈی پی کے رہنما چندر بابو نائڈو اور جے ڈی یو کے رہنما نتیش کمار کا بی جے پی سے پرانا رشتہ ہے لیکن اس رشتے میں اتار چڑھاؤ بھی آتے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان دونوں کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کب اور کیا قدم اٹھائیں گے۔ بہت سے ایشوز، جیسا کہ ون نیشن ون الیکشن اور یونیفارم سول کوڈ وغیرہ معاملے پر وہ بی جے پی کے موقف کے خلاف ہیں۔ لہٰذا ان امور پر بی جے پی از خود کوئی فیصلہ نہیں کر پائے گی۔
قابل ذکر ہے کہ انتخابی مہم کے دوران وزیرِ اعظم مودی نے کانگریس پر بار بار الزام لگایا تھا کہ وہ سرکاری ملازمتوں میں دلتوں، قبائلیوں اور پسماندہ طبقات کو حاصل ریزرویشن (یعنی ان کے لیے سیٹوں کا کوٹہ) مسلمانوں کو دے دے گی۔
لیکن اسی دوران چندر بابو نائڈو نے اعلان کیا تھا کہ اگر ریاست میں ان کی پارٹی کی حکومت بنی تو وہ پسماندہ مسلمانوں کو ملازمتوں میں چار فی صد ریزرویش دے گی۔ آندھرا پردیش میں اسمبلی انتخابات بھی ہوئے ہیں اور ٹی ڈی پی کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
مبصرین کہتے ہیں کہ ووٹرز نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور کسی ایک پارٹی کو مکمل اکثریت نہیں دی۔ انتخابی نتائج کا پیغام بہت واضح ہے کہ بھارت ایک سیکولر اور جمہوری ملک تھا اور رہے گا۔ یہاں کے عوام آمریت کو پسند نہیں کرتے۔
اخبار ’دی ہندو‘ کے مطابق عوام نے بی جے پی کی فرقہ واریت کی سیاست کو لگام دے دی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ بی جے پی عوام کے سامنے جواب دہ رہے اور تعمیری انداز میں کام کرے۔ اسے اس پیغام کو جمہوری جذبے کے ساتھ لینا ہو گا اور 10 سالہ حکومت کے بعد مخلوط حکومت کے تقاضوں کے مطابق چلنا ہو گا۔

