بی جے پی اور بی آر ایس کی ملی بھگت سے عوام ہوشیار رہیں

جوگورامنا کی بدعنوانیوں کے باعث ہی انھیں وزارت کا عہدہ نہیں ملا

عادل آباد میں منعقدہ کانگریس کے انتخابی جلسہ سے کانگریس صدر ریونت ریڈی کا خطاب

عادل آباد : 8/نومبر (اپنا وطن نیوز)

صدر پردیش کانگریس کمیٹی تلنگانہ مسٹر ریونت ریڈی نے آج ضلع عادل آباد کے اوٹنور اور مستقر عادل آباد پر منعقدہ انتخابی جلسوں میں شرکت کرتے ہوئے انھیں مخاطب کیا۔

حلقہ اسمبلی خانہ پور کے تحت اوٹنور میں کانگریس پارٹی امیدوار بجو پٹیل اور حلقہ اسمبلی عادل آباد کے کانگریسی امیدوار کندی سرینواس ریڈی کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔

مستقر عادل آباد پر منعقدہ انتخابی جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے وزیر اعلیٰ کے۔چندر شیکھر راؤ پر کئی ایک الزامات لگائے اور کہا کہ عوام بدعنوانیوں سے لبریز حکومت کو اکھاڑ پھینکے۔

انھوں نے کہا کہ مقامی بی آر ایس ایم ایل اے جوگورامنا کو اس مرتبہ ان کی بدعنوانیوں کے باعث ہی وزارت کا عہدہ نہیں دیا گیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ اوپر سے نیچے تک بی آر ایس قائدین بدعنوانیوں میں ملوث ہیں۔

مسٹر ریونت ریڈی نے یہ بھی کہا کہ بی آر ایس اور بی جے پی میں موجودہ اسمبلی انتخابات کو لیکر آپسی مفاہمت ہوئی ہے اور وہ ایک ہی کشتی کے سوار ہیں، بی آر ایس کو ووٹ دینا دراصل بی جے پی کو ووٹ دینے کے برابر ہے۔

انھوں نے بتایا کہ کالیشورم پراجیکٹ میں لاکھوں کروڑ کی بد عنوانی ہوئی ہے تاہم نریندر مودی نے اپنے حالیہ دورہ حیدر آباد میں اس سے متعلق ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی ریاستی حکومت کی بدعنوانیوں پر پردہ ڈال رہی ہے۔

ریونت ریڈی نے اپنی مخاطبت میں کے سی آر ، کے ٹی آر اور ہریش راؤ پر زبردست تنقیدیں کیں اور کہا کہ بی آر ایس قائدین جابجا پوچھتے ہیں کہ کانگریس نے ملک کو کیا دیا، تلنگانہ کو کیا دیا تب میں انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ اگر کانگریس حکومت ملک پر حکمرانی نہ کرتی تب شائد کے ٹی آر امریکہ میں باتھ رومس کی صفائی کررہے ہوتے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ راج شیکھر ریڈی کے دور اقتدار میں ضلع عادل آباد کے لئے آبپاشی پراجیکٹس کی منظوری عمل میں لائی گئی تھی تاہم بی آر ایس حکومت نے ان پراجیکٹس کو منسوخ کردیا جس سے ضلع کے کسان اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

حلقہ اسمبلی عادل آباد میں کانگریس دور اقتدار کے دوران 45 ہزار اندرما مکانات کی منظوری عمل میں لائی گئی تھی لیکن بی آر ایس دور اقتدار میں ایک بھی فرد کو نہ ہی مکان کی تعمیر کے لئے امداد فراہم کی گئی اور نہ ہی ڈبل بیڈ روم تقسیم کئے گئے۔

انھوں نے مقامی کانگریس کے ناراض قائدین سے اپیل کی کہ وہ دوسری سیاسی جماعتوں کے قائدین کے بہکاوے میں نہ آئیں، مقامی ٹکٹ کا فیصلہ دراصل صدر پردیش کانگریس ملکارجن کھڑگے اور ان کی ٹیم نے کیا ہے لہذا جو ناراض قائدین و پارٹی ورکرس ہیں ان کے درخشاں سیاسی مستقبل کی وہ ضمانت لیتے ہیں۔

مسٹر ریڈی نے مسلمانوں اور گریجنوں کو 12 فیصد تحفظات نہ دینے، نوجوانوں کو بیروزگاری بھتہ کی عدم منظوری، ایک بھی نئے راشن کارڈ کی عدم اجرائی پر بی آر ایس حکومت پر سخت تنقید کی اور شرکا کو بھروسہ دلایا کہ کانگریس حکومت برسراقتدار آئیگی اور کانگریس کی 6 گیارنٹیوں پر عمل آوری کی جائے گی۔

جلسہ عام میں کانگریس قائدین دگمبر راؤ پاٹل، سعید خان، نگیش، عبدالخالق، محمدشکیل، خضر، عبدالسمیع، شجاعت خان، نور خان و دیگر موجود تھے۔